پشاور (جنگ نیوز) شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شرینگل، دیر اپر میں ایک سیاسی طلبہ تنظیم کی جانب سے مبینہ طور پر وائس چانسلر، اعلیٰ افسران اور دیگر ملازمین پر تشدد اور ایڈمن بلاک میں توڑ پھوڑ کے واقعے کے بعد یونیورسٹی کا ماحول کشیدہ ہوگیا ہے جبکہ ملازمین نے احتجاج شروع کرتے ہوئے حکومت سے فوری انصاف اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز بعض طلبہ و سیاسی کارکنوں نے یونیورسٹی میں ایک سیاسی سرگرمی کیلئے اجازت نہ ملنے پر احتجاج شروع کیا اور اس دوران ایڈمن بلاک کا رخ کیا، جہاں صورتحال مبینہ طور پر ہاتھا پائی اور تشدد تک جا پہنچی۔ واقعے کے دوران وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سردار خان اور دیگر افسران کو مبینہ طور پر شدید نشانہ بنایا گیا جبکہ دفاتر اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کے ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اگر ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی کا وائس چانسلر، افسران اور ملازمین اپنے دفاتر میں بھی محفوظ نہیں تو عام تعلیمی ماحول اور طلبہ کے تحفظ کی کیا ضمانت ہوسکتی ہے۔ ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے میں بعض ایسے افراد کے نام بھی سامنے آرہے ہیں جو یونیورسٹی کے طلبہ ہی نہیں بلکہ مبینہ طور پر باہر سے آئے تھے۔