اسلام آباد(ماریانہ بابر/ایجنسیاں)ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد اور بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے معاملے پر پاکستان اپنے تمام آپشنزاستعمال کرے گا ‘ ہمارے تمام آپشنز کھلے ہیں‘ تمام سفارتی اور غیر سفارتی راستے زیرغورہیں ‘بھارت معاہدے کی پاسداری اورپاکستان کے ساتھ تعمیری بات چیت کرے ‘مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظرہے ‘ہم مایوس نہیں ہوئے ‘امریکا اور ایران سے رابطے جاری ہیں ‘امید ہے فریقین جلد مذاکرات کی میزپر واپس آئیں گے ‘جی ایس پی پلس سے متعلق یورپی کمیشن کی رپورٹ متوازن نہیں ‘طالبان حکومت کوٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے ‘ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی ہے جس کے دوران وہ آئندہ سال ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ بدھ کو یہاں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ثالثی عدالت کے فیصلے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے سے ایسے خدشات پیدا ہوتے ہیں جو موجودہ تنازعے سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ بھارت کو معاہدے کی مکمل پاسداری کی جانب واپس آنا چاہیے‘پاکستان اس فیصلے پر پوری سنجیدگی سے عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ طاہراندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے معاملے پر تعمیری مذاکرات کے لیے ہمیشہ مثبت طور پر رابطے میں رہا ہے تاہم پیش رفت کا انحصار عبوری طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات پر ہوگا جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں۔