• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیصل نصیر کی تقرری، قومی ادارہ "نیکٹا" پھر توجہ کا مرکز بن گیا

انصار عباسی

اسلام آباد :…نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈی نیٹر کے طور پر میجر جنرل فیصل نصیر کی 3؍ سال کیلئے تعیناتی نے ایک بار پھر اس ادارے کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جو ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل پاکستان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کیخلاف جنگ میں مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے ایک پُرعزم مینڈیٹ کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔ جمعہ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق فیصل نصیر کو نیکٹا ایکٹ 2013ء کی دفعہ 9(1) کے تحت ڈیپوٹیشن پر فوری طور پر 3؍ سال کیلئے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نیکٹا کے پاس وسیع قانونی مینڈیٹ تو موجود ہے، تاہم یہ ادارہ بڑی حد تک دیگر سرکاری اداروں سے یہاں تعینات کیے جانے والے افسران پر انحصار کرتا ہے۔ نیکٹا 2008ء میں وزارت داخلہ کے ایک انتظامی یونٹ کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جس کے بعد نیکٹا ایکٹ 2013ء کے تحت اسے انتظامی اور مالی خودمختاری دی گئی۔ قانون کے تحت اسے ایک کارپوریٹ ادارہ بنایا گیا جو بورڈ آف گورنرز کے سامنے جواب دہ ہے اور اسے قومی سطح پر انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہاپسندی کی کوششوں میں رابطہ کاری کی ذمہ داری سونپی گئی۔ قانون کے تحت نیکٹا کیلئے ضروری ہے کہ وہ انٹیلی جنس اور معلومات جمع اور یکجا کرے، قومی انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہاپسندی کی حکمت عملیاں تیار کرے، ایکشن پلانز وضع کرے، ان پر عملدرآمد کی نگرانی کرے، تحقیق کرے، متعلقہ قوانین کا جائزہ لے اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے۔ دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد بھی اتھارٹی کو مرکزی کردار دیا گیا تھا۔ نیکٹا 20؍ نکاتی نیشنل ایکشن پلان کی تیاری میں شامل تھا اور بعد ازاں اسے اس پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ ان ذمہ داریوں کی اہمیت کے باوجود نیکٹا گزشتہ برسوں کے دوران ایک طاقتور قومی سلامتی کے ادارے کی حیثیت سے اپنی ادارہ جاتی حیثیت مستحکم کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔ ایک بڑا مسئلہ دیگر سرکاری محکموں اور سروسز سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران پر اس کا انحصار رہا ہے۔ نیکٹا وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ڈیپوٹیشن پر افسران کی آسامیوں کیلئے اب بھی اشتہارات جاری کرتا ہے، جن میں انتظامیہ، رابطہ کاری اور اپنے بورڈ آف گورنرز اور ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق عہدے بھی شامل ہیں۔ اس صورتحال نے سرکاری افسران میں یہ تاثر پیدا کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے کہ نیکٹا میں تعیناتی پولیس، انٹیلی جنس، صوبائی انتظامیہ یا دیگر صف اول کے سیکیورٹی اداروں میں عہدوں کے برابر عملی اختیار یا کیریئر پر اثر نہیں رکھتی۔ حکومت اس سے قبل نیکٹا میں ملازمت کو زیادہ پرکشش بنانے کی کوشش کرچکی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے بعد اتھارٹی کو مزید مضبوط کیا گیا اور اس کے ملازمین کو رسک الاؤنس سمیت اضافی مراعات فراہم کی گئیں۔ نیکٹا کے اعلیٰ فیصلہ ساز فورمز کے اجلاسوں کی تعداد اور تسلسل پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ نیکٹا کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس کی ساتویں ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 24؍ اپریل 2024ء کو ہوا تھا۔ اجلاس میں ملک میں دہشت گردی اور سیکیورٹی کی صورتحال، نیکٹا کی کامیابیوں اور ان شعبوں پر غور کیا گیا جہاں مداخلت کی ضرورت تھی۔ 4؍ ستمبر 2026ء تک نیکٹا کی ویب سائٹ پر آٹھویں ایگزیکٹو کمیٹی کا کوئی اجلاس درج نہیں ہے۔ تاہم، بورڈ آف گورنرز کا اجلاس اپریل 2025ء میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ہوا تھا، جو ترمیم شدہ قانونی فریم ورک کے تحت بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ اجلاس میں نیکٹا کے تحت نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے قیام کی منظوری دی گئی۔ فیصل نصیر ، جنہیں انٹیلی جنس اور سیکیورٹی امور کا وسیع تجربہ حاصل ہے، کی تعیناتی نے اس لیے اتھارٹی کے بنیادی مقصد کی جانب نئی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ان کی تعیناتی کے ساتھ نیکٹا کے ادارہ جاتی اختیار کو مضبوط بنانے، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ کاری بہتر بنانے اور اسے قومی سلامتی کے ایک زیادہ مؤثر ادارے میں تبدیل کرنے کی وسیع تر کوشش بھی کی جائے گی۔ ایسی اتھارٹی کیلئے جو خاص طور پر پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی قیادت اور رابطہ کاری کیلئے قائم کی گئی تھی، اس کے موثر ہونے کا انحصار بالآخر اس بات پر ہوگا کہ دیگر ادارے اس کے جائزوں اور رابطہ کاری کے طریقہ کار کو قومی سلامتی سے متعلق فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت دیتے ہیں یا نہیں۔ ایک سرکاری ذریعے نے کہا کہ فیصل نصیر کی 3؍ سالہ تعیناتی نیکٹا کو اپنا کردار مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرسکتی ہے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع سے کس حد تک فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اس کا انحصار نئے نیشنل کوآرڈینیٹر کو دیے جانے والے اختیار، وسائل اور ادارہ جاتی حمایت پر ہوگا۔ ایک وقت تھا جب نیکٹا کا بورڈ واقعی طاقتور تھا۔ اس کی سربراہی وزیراعظم کرتے تھے اور اس میں تمام وزرائے اعلیٰ، تمام انٹیلی جنس سربراہان اور دیگر اہم شخصیات شامل ہوتی تھیں۔ تاہم بعد میں اسے وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید