• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیفنس فیز 8 میں تشدد کا واقعہ، مقدمہ درج، دو ملزمان گرفتار

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈیفنس فیز 8 میں نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے کے واقعہ کا مقدمہ متاثرہ نوجوان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ متاثرہ نوجوان سید علی جعفری کی مدعیت میں ساحل تھانے میں درج کیا گیا ہے جس میں دو نامعلوم افراد سمیت 5 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں علی فیصل، ابراہیم ملک اور ابراہیم سمیت دو نامعلوم افراد شامل ہیں جبکہ مقدمہ میں ہراساں کرنے، اغوا، جان سے مارنے کی دھمکیوں سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں ۔مدعی مقدمہ علی جعفری نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ وہ مارٹن کوارٹرز جمشید روڈ کا رہائشی اور اے سی سی اے کا طالب علم ہے۔مدعی نے بتایا کہ 29 اگست کو میں اپنے دوست علی فیصل کے ہمراہ ڈیفنس بخاری کمرشل کے ایک گیمنگ زون گیا جہاں اس کا دوست ابراہیم گیمنگ کرنے آیا جس سے میری پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ گیمنگ کے بعد ہم لوگ ایک ریسٹورنٹ گئے اور کھانا کھایا ۔ علی جعفری کے مطابق رات تقریباً 8بجے ریسٹورنٹ سے باہر نکلتے ہی ایک نامعلوم گاڑی وہاں آئی جس سے ایک شخص اترا جو علی فیصل کا دوست تھا، اس نے عقب سے بیس بال بیٹ میری گردن پر مارا جس سےمیں نیم بے ہوش ہوگیا۔ مدعی کے مطابق ابراہیم اور اس کے تین ساتھیوں نے زبردستی مجھے گاڑی میں بٹھایا اور ساحل کے قریب ڈیفنس فیز 8 کے ایک خالی پلاٹ میں لے گئے جہاں ملزمان نے مجھے بیس بال بیٹ سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ علی جعفری کے مطابق ملزمان نے مجھے زمین پر پھینکا،میری تذلیل کی،میری دونوں ٹانگوں کے بیچ میں بیس بال سے مارا، بال نوچے،میرے منہ میں ڈالے اور مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ واقعہ کی ویڈیو بھی بنائی۔ مدعی کے مطابق ملزمان نے میرے اہل خانہ کی تصاویر دکھا کر دھمکیاں دیں کہ اگر واقعہ کے بارے میں کسی کو بتایا تو تمہارے اہل خانہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔ مدعی نے مزید بتایا کہ ملزمان نے جاتے ہوئے میری ٹانگ پر بیس بال بیٹ سے وار کیا جس سے بیٹ ٹوٹ گیا، بعدازاں مجھے گاڑی میں بٹھا کر بخاری کمرشل پر چھوڑ دیا گیا،گاڑی میں ابراہیم اپنے ایک ساتھی کو ابراہیم ملک کے نام سے پکار رہا تھا۔ ملزمان نے کہا کہ گھر جا کر 30 ہزار روپے بھیج دینا۔جب میں گھر پہنچا تو گھر والوں کو علی فیصل نے واقعہ کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید