• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران، امارات تعلقات کا نیا باب شروع کرنے کے لیے پرعزم، مستقبل کی تعمیر کریں گے، صدر پزشکیان، خلیجی ممالک ایران مذاکرات کی پرواہ نہیں، ٹرمپ

نئی دہلی /تہران (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں آج ہونے والی ملاقات ملتوی ہوگئی ہے ‘ یمن میں حوثی جنگجوؤں اور سرکاری فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہےجبکہ حوثی اہم شمالی شہر مارب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیںجبکہ حوثی ترجمان کا کہنا ہے کہ گروپ نے سعودی ریجن جیزان میں فوجی اڈے کوہدف بناکر اسلحہ ڈپواور کمانڈ سینٹرزکو نشانہ بنایا گیا ہے ‘ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے ‘جنگ نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی‘ ہرمزپر ایران اور خلیجی ممالک کے مذاکرات کی پرواہ نہیں ‘یہ ان کا معاملہ ہے‘دوسری جانب صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ جنگ شروع نہیں کی بلکہ تہران تو امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع پر مجبور ہوا ہے‘ ریاض کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ‘ابوظہبی کے ولی عہد کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی‘اس بات پر اتفاق ہوا کہ ہم ماضی کو پیچھے چھوڑ کر ایک نیا باب شروع کریں گے‘ مستقبل پر توجہ دیں گے اور اسے مل کر تعمیر کریں گے۔ امارات‘ سعودیہ ‘پاکستان‘ قطر‘ روس اور چین سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات دوستانہ ہیں ‘خطے میں امریکی فوجی اڈے بنیادی مسئلہ ہیں‘ دشمن موجودہ سپریم لیڈرکے ساتھ بھی وہی کرنا چاہتا ہے جو سابق رہبراعلیٰ کے ساتھ کیا گیاجبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے مطابق ہرمز کا دوبارہ کھلنا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے مشروط ہے‘ ادھر ہرمز میں ایرانی تجارتی جہاز کو نامعلوم سمت سے نشانہ بنایا گیا جس سے اس پر سوار عملے کا ایک رکن جاں بحق جبکہ چار زخمی ہو گئے۔ یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حوثی باغیوں کے پانچ ڈرون مار گرائے ہیں۔سعودی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک گولہ جازان میں گرنے کے بعد دو افراد زخمی ہوئے۔ پاسداران انقلاب نے صدرٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر امریکی صدرآبنائے ہرمز کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو 100 کلومیٹر اندر آ کر دکھائیں جبکہ ایران کے قائم مقام وزیردفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ تہران کسی بھی نئے خطرے یا جنگ کے ایک اور مرحلے کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اہم خبریں سے مزید