کراچی (ثاقب صغیر )میر رضا کیس میں پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں اب بھی کئی سوالات کے جوابات آنا باقی ہیں۔فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیکویگل آفس اور پولیس سرجن آفس کے کردار کے حوالے سے ابھی کئی چیزیں سامنے آنا باقی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے ابتدائی اعتراضات پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور تصاویر کی بنیاد پر تھے، کیا ڈاکٹر سمعیہ نے تحریری اعتراضات اٹھانے سے پہلے ڈاکٹر اسامہ کو وضاحت کا موقع دیا؟پہلے پوسٹ مارٹم میں سینے کے زخم کو انٹری اور دوسرے میں ایگزٹ کیوں قرار دیا؟قبر کشائی کے دوران پچھلے زخم کے نیچے چھٹی پسلی کے فریکچر کی فرانزک تصدیق ہوئی، تقریباً بارہ دن تک دفن رہنے والی لاش کے ہاتھوں سے جی ایس آر سیمپل لینے سے کیا فرانزک فائدہ تھا؟پولیس سرجن نے اندرونی اصلاح کے بجائے قومی ٹی وی پر پوسٹ مارٹم کی خامیوں پر بات کیوں کی؟ ماہرین کے مطابق میر رضا کیس میں "پہلا پوسٹ" مارٹم غلط کیوں تھا؟۔معلومات کے مطابق پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے ابتدائی اعتراضات پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور دستیاب تصاویر کی بنیاد پر تھے اور انہوں نے پہلے پوسٹ مارٹم کے وقت لاش کا ذاتی طور پر معائنہ نہیں کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے قبر کشائی کے لیے بنائے گئے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی سربراہی کی۔ڈاکٹر سمعیہ کو پہلے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مندرجات کا پہلی بار کب علم ہوا اور انہوں نے پہلی مرتبہ کب یہ رائے قائم کی کہ پوسٹ مارٹم کے معائنے یا اسکی دستاویزات میں خامیاں موجود ہیں؟۔اپنے اعتراضات ریکارڈ کرنے یا متعلقہ حکام تک پہنچانے سے پہلے کیا ڈاکٹر سمعیہ نے ڈاکٹر اسامہ شیخ سے بات کی اور انہیں بظاہر موجود تضادات یا کمیوں کی وضاحت کا موقع دیا؟اگر ہاں، تو انہوں نے کیا وضاحت دی؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ انکوائری میں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کسی کمی یا تضاد کو حتمی اعتراض بنانے سے پہلے متعلقہ ڈاکٹر کو اسکی وضاحت کا موقع دیا گیا تھا یا نہیں۔ڈاکٹر سمعیہ اور ڈاکٹر اسامہ شیخ 29 جولائی یعنی پہلے پوسٹ مارٹم کے دن سے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ 29 جولائی سے پوسٹ مارٹم رپورٹ جمع ہونے تک کیا ڈاکٹر سمعیہ نے کسی مرحلے پر ڈاکٹر اسامہ کو بتایا کہ وہ رپورٹ کے کسی نتیجے، تشریح، کمی، غلطی یا الفاظ کے استعمال سے مطمئن نہیں ہیں؟ ڈاکٹر اسامہ کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ انکے اور ڈاکٹر سمعیہ کے پاس رہی اور کسی تیسرے شخص کے حوالے نہیں کی گئی۔ کیا یہ بات درست ہے؟۔ڈاکٹر اسامہ نے مزید کہا ہے کہ انہوں نے مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ متعلقہ پولیس افسران کو نہیں بھیجی تھی۔کیا ڈاکٹر سمعیہ نے کسی بھی مرحلے پر یہ رپورٹ پولیس کو بھیجی؟ آگے منتقل کی یا پولیس تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا کیا؟۔اگرانہوں نے رپورٹ پولیس کو منتقل نہیں کی تو پھر آخرکار یہ رپورٹ پولیس تک کس نے پہنچائی، کب پہنچائی اور کس سرکاری طریقہ کار کے ذریعے پہنچائی؟ اگر پولیس سرجن پہلے پوسٹ مارٹم کے نتائج یا رپورٹ سے مطمئن نہیں تھیں تو پھر رپورٹ کو باقاعدہ درست، مکمل یا واضح کیے بغیر میڈیکو لیگل نظام کے تحت آگے بڑھنے کی اجازت کیوں دی گئی؟۔ڈاکٹر سمعیہ نے پیر 3 اگست کو ڈاکٹر اسامہ سے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اصلاحات کے حوالے سے رابطہ کیا تھا۔