• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفریحی فلٹر یا ڈیٹا رسک؟ AI ٹرینڈ پر پرائیویسی خدشات بڑھ گئے

کراچی(رفیق مانگٹ)تفریحی فلٹر یا ڈیٹا رسک؟ AI ٹرینڈ پر پرائیویسی خدشات بڑھ گئے، فلٹر چہرے کی مکمل بایومیٹرک اسکیننگ،کلک سے پہلے سوچیں، تصاویر شیئر کرنے میں احتیاط ضروری، اپنا پاس ورڈ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن اپنا چہرہ نہیں،چہرے کا ڈیٹا لیک ہو جائے تو  واپس حاصل کرنا ناممکن،صارفین کی تصاویر AI ماڈلز کی تربیت اور تھرڈ پارٹی کو فروخت ہونے کا خدشہ، ممکنہ خطرات پر  غور کریں،سوشل میڈیا پر حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر کو 1980 کی دہائی کے انداز میں تبدیل کرنے کا ٹرینڈ تیزی سے مقبول ہوا، جس میں لاکھوں صارفین نے اپنی تصاویر مختلف AI ایپس اور پلیٹ فارمز کو فراہم کیں، تاہم اس رجحان نے بایومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ، پرائیویسی اور ڈیٹا کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور دیگر ریگولیٹری اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل محض تفریحی فلٹر نہیں بلکہ چہرے کی ساخت، آنکھوں کے فاصلے اور دیگر منفرد خصوصیات پر مبنی پیچیدہ بایومیٹرک تجزیہ ہے، جس کا ڈیٹا نہ صرف مستقل نوعیت کا ہوتا ہے بلکہ لیک ہونے کی صورت میں ناقابلِ واپسی بھی ہو سکتا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ معلومات AI ماڈلز کی تربیت، ڈیٹا بروکرز کو فروخت، ڈیپ فیک کی تیاری اور نگرانی کے نظام میں استعمال ہو سکتی ہیں، اس لیے صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایپس کی پرائیویسی پالیسیز کا جائزہ لیں، غیر ضروری اجازتیں نہ دیں اور کسی بھی AI ٹول کو ذاتی تصاویر فراہم کرنے سے قبل ممکنہ خطرات پر ضرور غور کریں۔رپورٹ کے مطابق جب صارفین اپنی تصاویر AI پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کرتے ہیں، تو یہ سادہ فوٹو فلٹر کا عمل نہیں ہوتا بلکہ ایک پیچیدہ بایومیٹرک تجزیہ ہوتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید