کراچی (اسٹاف رپورٹر) میر رضا کی ہلاکت کے بعد منگھوپیر گھر میں ڈکیتی کےد وران مسلح ڈاکوؤں کی جانب سے16سالہ نوجوان روشام حسین کے قتل کے واقعے نے پولیس کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا، مقتول کے والد اپنے جواں سال بیٹے کی لاش کے کیساتھ گذشتہ 6 روز سے منگھوپیر تھانے کے باہر دھرنا دئے بیٹھے ہیں ، مقتول کے والد نے قاتل کی گرفتاری اور اسے سامنے لانے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی فضا ہے، مقتول 8بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ والدہ شدت غم سے نڈھال، والدہ بیٹے کے قتل سے بے خبر، پولیس ملزمان کی گرفتاری میں اب تک ناکام ہے۔مقتول نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس سے جب بھی بات کرتے ہیں تو یہی جواب ملتا ہے کہ قاتلوں کو تلاش کیا جا رہا ہے،پولیس نے بتایا ہے کہ واردات میں ایک پرائیویٹ شخص بھی ملوث ہے، جس کی تلاش جاری ہے، تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔مقتول کے والد کا مزید کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 6 روز سے تھانے کے باہر دھرنے میں موجود ہیں۔ بیٹے کے قاتلوں کو گرفتاری کیلئے 10 سال بھی بیٹھنا پڑا تو وہ یہاں بیٹھے رہیں گے۔ دوسری طرف روشام کے قتل کے واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی فضا پیدا ہوگئی ہے، مقتول کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کی جانب سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔سب سے زیادہ دردناک منظر اس وقت سامنے آیا جب مقتول روشام حسین کے والد اپنے 16 سالہ بیٹے کی لاش کے ہمراہ انصاف کے حصول کے لیے منگھوپیر تھانے کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ کر قاتلوں کو پیش کرنے کا مطالبہ کرتے کبھی کبھی اپنے جذبات ضبط نہ کرپاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتے،مقتول روشام حسین 8 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور سب سے چھوٹا تھا،مقتول کے والد نے بتایا ہے کہ روشام کی والدہ کو یہ معلوم ہے کہ اسکا بیٹا زخمی اور اسپتال میں ہے گھر میں ٹی وی اور موبائل فون سب کچھ بند کردیا جب اسکی ماں کو اس بات کا پتہ چلے گا تو نہیں معلوم وہ یہ صدمہ کیسے برداشت کرے۔