پشاور (ارشد عزیز ملک) ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں طلبہ کے نمبروں میں ردوبدل کا بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے ۔امتحانی نظام میں مبینہ طور پر طلبہ کے نمبروں میں اضافہ کرنے والے گروہ میں مبینہ ہیکرز، سہولت کاروں اور نمبروں میں اضافے سے فائدہ اٹھانے والے طلبہ کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ یونیورسٹی کے لرننگ مینجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس) میں طلبہ کے نمبروں میں مبینہ ردوبدل کی تحقیقات کے دوران قائم انکوائری کمیٹی نے غیر مجاز رسائی، مالی لین دین، موبائل پیغامات، طلبہ کے بیانات اور دیگر الیکٹرانک شواہد حاصل کرلئے ۔کمیٹی نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک سے دو ماہ تک انکوائری جاری رکھنے، سابقہ سمسٹرز کے نتائج کا جائزہ لینے اور ڈیجیٹل فرانزک کرانے کی سفارش کی ہے۔انکوائری کے دوران کمپیوٹر سائنس اور سافٹ ویئر انجینئرنگ سمیت متعلقہ طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ اور ایل ایم ایس تک رسائی کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض افراد نے مبینہ طور پر ایل ایم ایس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرکے طلبہ کے نمبروں میں تبدیلی کی۔انکوائری میں مالی لین دین کو اہم ثبوت کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔