لاہور (محمد صابر اعوان سے) پاکستان ریلوے کے خستہ حال بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایم ایل ون منصوبے نے ایک بار پھر عملی مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر لی، کراچی سے پشاور تک 1726 کلومیٹر طویل ریلوے کوریڈور کو پانچ مرحلوں میں اپ گریڈ کرنے کے منصوبے پر مجموعی طور پر 6.66 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے، جس کے بعد مسافر ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچانے، ٹریک کی گنجائش بڑھانے، سگنلنگ نظام جدید بنانے اور ریلوے کو محفوظ و مؤثر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم روہڑی تا ملتان اہم ترین سیکشن کی فنانسنگ تاحال ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور تک ریلوے کوریڈور کو مرحلہ وار جدید بنایا جائے گا، جس میں ٹریک کی اپ گریڈیشن، ضرورت کے مطابق ڈبل ٹریک، پلوں اور کلورٹس کی بہتری، زیادہ ایکسل لوڈ برداشت کرنے کی صلاحیت، جدید سگنلنگ و کمیونیکیشن نظام، ریلوے کراسنگز کی بہتری اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہے۔ایم ایل ون کو پانچ مرحلوں میں مکمل کرنے کا پروگرام ہے، پہلے مرحلے میں کراچی تا روہڑی 480 کلومیٹر سیکشن پر تقریباً 2 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔