• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نمک منڈی کی دیرپا مقبولیت کا راز اس کی سادگی میں پوشیدہ ہے مقامی افراد

پشاور (اے پی پی):پشاور، اتوار کے روز نمک منڈی فوڈ اسٹریٹ میں دہکتے کوئلوں سے اٹھنے والا سفید دھوئیں کا دبیز غبار آہستہ آہستہ فضا میں بلند ہو رہا تھا، جو اپنے ساتھ سیخوں اور کڑاہیوں میں پکنے والے گوشت کی دلکش خوشبو بھی لیے ہوئے تھا۔ قریب ہی کھانے کے شوقین افراد بھاپ اڑاتی پلیٹوں پر جھکے، نان کے ٹکڑے توڑتے اور لذیذ و نرم گوشت سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے، جبکہ قہقہوں اور خوش گپیوں سے ماحول گونج رہا تھا۔ گزشتہ روز ہونے والی بارش کے بعد نمک منڈی میں یہ منظر خیبر پختونخوا میں موسمِ سرما کی آمد کا پیغام دے رہا تھا۔ نمک منڈی کی تنگ گلیوں میں بھاری سیاہ کڑاہیوں سے چمچوں کی مسلسل کھنک سنائی دیتی ہے۔ پشاور کی اس تاریخی اور معروف فوڈ اسٹریٹ میں ہر برتن میں روایت پک رہی ہوتی ہے اور ہر لقمہ نسل در نسل منتقل ہونے والے کھانوں کی ثقافت کی ایک داستان سناتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے قلب میں واقع نمک منڈی، جسے سالٹ مارکیٹ بھی کہا جاتا ہے، محض ایک عام بازار نہیں۔ یہ ایک ثقافتی اور ذائقوں کا اہم مرکز بن چکا ہے جو پاکستان بھر سے کھانے کے شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے اور اب بیرونِ ملک سے بھی لوگ یہاں کا رخ کرنے لگے ہیں۔ اس کی خاص پہچان مٹن کڑاہی، باربی کیو تکہ اور روایتی جانوروں کی چربی میں پکایا جانے والا گوشت ہے۔ سابق صدر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فواد اسحاق نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کے لوگوں کیلئے نمک منڈی صرف کھانے کی جگہ نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خاندان اور دوست اکٹھے ہوتے ہیں، کہانیاں بانٹی جاتی ہیں اور مشترکہ کھانے کے دوران نسلیں ایک دوسرے سے دوبارہ جڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئلوں پر بھنا ہوا یا دنبے کی چربی میں تلا ہوا لذیذ مٹن ، یہ ذائقہ کہیں اور نہیں مل سکتا۔ ریٹائرڈ اسکول ٹیچر فیاض خان، جو ہر ماہ نمک منڈی کا رخ کرتے ہیں، نے کہا کہ نمک منڈی کی سیر کے بغیر ان کا پشاور کا دورہ ادھورا رہتا ہے۔ مٹن کڑاہی اور نان کی بھاپ اڑاتی پلیٹ کے ساتھ بیٹھے فیاض خان نے فوڈ اسٹریٹ میں کھائے گئے بے شمار کھانوں کو یاد کرتے ہوئے کہا، "میں نے ملک بھر میں بہت سفر کیا ہے، لیکن نمک منڈی کے کھانوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ایک بار یہاں کا کھانا کھانے کے بعد دوبارہ آنے سے خود کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق نمک منڈی کی دیرپا مقبولیت کا راز اس کی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ دوسری نسل سے تعلق رکھنے والے دکاندار نثار خان، جن کے خاندان کو اس بازار میں 50 سال سے زائد عرصے سے گوشت بھوننے اور تلنے کا تجربہ ہے۔
پشاور سے مزید