• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں کی کفالت کی ذمہ داری پر سزامیں رعایت نہیں دی جاسکتی،پشاور ہائیکورٹ

پشاور (نیوز رپورٹر)پشاورہائیکورٹ نے قراردیاہے کہ قتل کے سنگین جرم میں ملوث ملزم اپنے بچوں کی کفالت کو جواز بنا کر احتساب سے نہیں بچ سکتا ، کیونکہ یہ ایک بڑا جرم ہے ۔ ملزم نے بڑی بے دردی سے ضلع خیبر میں محکمہ تعلیم کی خاتون آفیسر کوقتل کیااس نے پہلے بھی خاتون کو مبینہ تشددکا نشانہ بنایا لہذا ملزم شوہرکی سزا میں کمی کی اپیل خارج کی جاتی ہے اورسزائے موت کی سزا برقراررکھی جاتی ہے ۔ جسٹس صاحبزادہ اللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دورکنی بنچ نے ملزم نجیب اللہ کی اپیل پر سماعت کی ۔دوران سماعت عدالت کو بتایاگیاکہ 17جون 2023کو گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول میری خیل میں واقع رہائشی کوارٹرمیں سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او)خیبررضوانہ شاہین کوتیزردار آلہ کے پے درپے وار سے قتل کیا گیاتھا۔ چوکیدار مراد علی کی مدعیت میں ابتدائی طور پر نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد میں مقتولہ کے ورثاء شفقت اللہ اور محمد جہانگیر نے آکر عدالت میں مقتولہ کے شوہر اور موجودہ ملزم نجیب اللہ کیخلاف قتل کی دعویداری کی اوربتایاکہ اسے اپنے شوہر نے قتل کیا ہے۔دوران ٹرائل مقتولہ کے بچیوں کے بھی بیانات ریکارڈ کیے گئے ۔ سیشن کورٹ نے ٹرائل کے دوران عدالت میں پیش کیے گئے ثبوتوں، میڈیکل رپورٹ ،فرانزک شہادتوں وغیرہ کی روشنی میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت اور 10لاکھ روپے بطور دیت ورثاء کو دینے کاحکم دیا جس کیخلاف ملزم نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے دلائل مکمل ہونے پر 49صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے ۔ عدالتی فیصلے کے مطابق دستاویزی شہادتوں کے مطابق مقتولہ پرپہلے بھی ہاتھوں پر تشدد کیا گیاتھا جبکہ اس کے دانت بھی توڑدیئے گئے تھے جس پر اس نے رشتہ ختم کرنے کیلئے مقامی فیملی کورٹ سے رجوع کیاتاہم مقامی مشران کی مداخلت پر ان کے درمیان صلح کرائی گئی ۔ ملزم کی جانب سے سزا میں کمی کی اپیل خارج کی جاتی ہے اور اس کی سزائے موت کا فیصلہ برقراررکھا جاتا ہے ۔
پشاور سے مزید