اسلام آباد(اے پی پی)پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے‘ ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کرنے اور افغانستان کو علاقائی رابطہ کاری کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ کابل پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اور قابل تصدیق کارروائی کرے ‘اسلام آباد اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ اور مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا ان کی روح کے مطابق پابند ہے۔یہ دفاعی اتحاد نیا بلاک تشکیل دیتاہے نہ ہی کسی ملک کے خلاف ہے ۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایاکہ وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلی سطح کے اجلاس میں پاکستان کی قیادت کریں گے‘ترجمان نے 1963 کے باؤنڈری معاہدے اور جوائنٹ کمیشن پر بھارت کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو متنازعہ علاقے قرار دیا اور بھارت سے کہا کہ وہ 5 اگست 2019 کے اپنے فیصلوں کو واپس لے۔