کراچی ( خالد محبوب ۔۔اسٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک کا امن تباہ ہے، کے پی کے اور بلوچستان جل رہا ہے، سندھ میں ڈاکو راج ہے۔ پاکستان کے دینی مدارس کو نشانے پر رکھا ہوا ہے، تمہارا باپ بھی مدرسے بند کر سکتا ہے نہ مولوی بننے سے روک سکتا ہے،انگریز ہار ا تھا ایجنٹ بھی ہاریں گے۔ یمن سے گروہ اٹھ کر سعودی عرب پر حملہ آور ہے پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کیلئے جان دینے کو تیار ہے۔وہ شاہراہ قائدین پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ کانفرنس سے فاروق ستار، مولانا اللہ وسایا، مفتاح اسماعیل، علی خورشیدی، محمد حسین محنتی، ابو الخیر زبیر، مولانا مختار احمد ،مولانا عبدالغنی ،علامہ راشد مدنی، قاضی احمد نورانی، ایڈووکیٹ منظور احمد میؤ، علامہ یوسف قصوری، پیر خواجہ نجیب احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مفتی زبیر اشرف عثمانی، مولانا رضوان، مولانا عزیز الرحمن ثانی، سمیع الحق سواتی، مولانا غیاث، قاری محمد عثمان، مولانا عبدالقیوم ہالیجوی اور مولانا قاضی احسان و دیگر نے بھی تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اس تاریخی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں۔ وطن عزیز کی سرحدوں، نظریہ اور دینی تہذیب کی حفاظت کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں اٹھائے جانے والے مسائل کچھ اور ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے۔ میں ملکی اور عالمی قوتوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں سبق پڑھانا چاہتے ہیں، ہمیں قبول نہیں، ہم آپ کے خود ساختہ ایجنڈے اور مقاصد کو خوب جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دینی مدارس کو نشانے پر رکھا ہوا ہے، تمہارا باپ بھی مدرسے بند کر سکتا ہے نہ مولوی بننے سے روک سکتا ہے۔ یہ نظریاتی اور فکری جنگ ہے، یہ جنگ انگریز بھی ہار گیا تھا آج اس کے ایجنٹ بھی ہار جائیں گے۔ علماء، مدرسہ، جمعیت علمائے اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، وفاق المدارس العربیہ اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ یہ سب ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کوشش کی کہ ایران اور امریکہ میں صلح کرا دے، آج یمن سے ایک گروہ اٹھا ہے جو سعودی عرب پر حملہ آور ہے، ہم سعودی عرب کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے جان دینے کو تیار ہے۔