اسلام آباد (انصار عباسی) پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ ایک ہی دن تین ہزار پٹواریوں کے بڑے پیمانے پر تبادلوں کے بعد ایک بھی ٹرانسفر آرڈر واپس نہیں لیا گیا، اور اس اقدام پر عمل درآمد کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی اس پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے جس کے تحت بیوروکریسی کے معاملات کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا جائے گا۔ بڑے پیمانے پر تبادلوں کے حوالے سے مزید معلومات کیلئے رابطہ کرنے پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پٹواریوں کے حوالے سے جاری کردہ تمام تبادلہ احکامات پر عمل درآمد ہوچکا ہے اور ایک بھی آرڈر واپس نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر چیف سیکریٹری پنجاب سے بھی بات کی ہے اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام احکامات پر مکمل عمل درآمد ہوچکا ہے اور انہیں واپس لینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ پٹواریوں کے تبادلے روایتی طور پر خاصے مشکل سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اگرچہ سرکاری درجہ بندی میں پٹواری نسبتاً نچلے عہدوں پر تعینات ہوتے ہیں، تاہم اراضی کے ریکارڈ، انتقالات، ملکیتی معاملات اور ریونیو سے متعلق دیگر خدمات میں براہِ راست شمولیت کے باعث انہیں محکمہ مال کے انتظام میں خاصا اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔ پٹواریوں کی ٹرانسفر پوسٹنگ پر اثرانداز ہونے یا انہیں اپنے مفاد کے مطابق منظم کرنے کی صلاحیت طویل عرصے سے صوبائی ریونیو نظام کی ایک مضبوط جڑ پکڑ چکی خصوصیت سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس لیے پنجاب حکومت اس حالیہ واقعے کو اس امر کے امتحان کے طور پر دیکھ رہی ہے کہ نچلی سطح پر کیا جانے والا کوئی بڑے پیمانے کا انتظامی فیصلہ سیاسی یا کسی دیگر بیرونی مداخلت کے بغیر نافذ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ مریم نواز حکومت کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ اس نے ابتدا ہی سے یہ مؤقف اختیار کر رکھا ہے کہ بیوروکریسی کے معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پاکستان میں ٹرانسفر پوسٹنگ میں سیاسی مداخلت ایک طویل عرصے سے متنازع معاملہ رہی ہے، جہاں منتخب نمائندے اور دیگر بااثر افراد اکثر اپنے حلقۂ انتخاب میں افسران کے تبادلوں یا تعیناتیوں کیلئے کوشش کرتے رہے ہیں۔