کراچی(اسٹاف رپورٹر)سرجانی ٹاؤن میں ماں اور اس کے تین معصوم بچوں کے لرزہ خیز قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، گرفتار ملزم مقتولہ خاتون کے شوہر کا بہنوئی نکلا۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم مقتولہ خاتون پر بری نظر رکھتا تھا اور زیادتی کا نشانہ بنانا چاہتا تھا، مزاحمت پر خاتون کو قتل کیا،جب قریب موجود 18 ماہ کی بچی رونے لگی تو اس کو اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔بچے ملزم کو جانتے تھے اس لیے انہیں بھی قتل کر دیا،ملزم وقوعہ کے روز دوپہر 2 بجے گھر میں داخل ہوا اور شام 6 بجے اس گھر سے فرار ہوا، ان چار گھنٹوں کے دوران ملزم نے سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے چاروں کو قتل کیا اور شواہد مٹانے کی کوشش کی۔ہمایوں چنگچی میں دانش کے گھر کے قریب اترا اور پھر وہاں سے پیدل اسکے گھر آیا، ملزم نے دانش کے گھر آنے سے پہلے اپنے موبائل فون بند کر دیے تھے۔۔ ملزم انتہائی شاطر ہے جس نے کرائم سین کو ایسا صاف کیا کہ پولیس کو کوئی شواہد نہیں ملے، قتل کے لیے سریا کی راڈ استعمال کی اور واردات کے بعد آلہ قتل نالے میں پھینک دیا۔ ملزم پیر کو دوپہر دو بجے کے قریب دانش کے گھر پہنچا، اسے معلوم تھا دانش گھر پر نہیں، پہلے چائے پی، بازار سے سامان لا کر واپس آیا تو دو بچے مدرسے جا چکے تھے، موقع پا کر خاتون پر حملہ کیا۔ مدرسے سے واپس آنے والے بچوں کو بھی قتل کر کے صوفوں پر لٹا دیا، بعد میں واش روم میں ہاتھ دھو کر خون صاف کیا اور شام چھ بجے کے قریب گھر سے نکل گیا۔ ملزم اپنا موبائل فون بند کر کے اور موٹر سائیکل گھر چھوڑ کر چنگچی رکشے پر آیا تھا۔ وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کم وقت میں قتل کا معمہ حل کرنے پر ڈی آئی جی ویسٹ، ایس ایس پی ویسٹ اور پوری ٹیم کو شاباش دی۔