کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کابینہ نے 25 ایکڑ تک اراضی رکھنے والے گندم کے کاشتکاروں کے لئے جامع پیکیج اور ’’سب کے لئے کھیل‘‘ کے وژن کے تحت سندھ اسپورٹس پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے قلندر شہباز یونیورسٹی کا قانونی مقام ٹنڈو محمد خان سے کراچی منتقل کرنے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں بلقیس و ایدھی میڈیکل ٹاور کی تعمیر اور ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کے ساتھ محکمہ خوراک کو گندم دینے پر 2 ہزار روپے فی من اضافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں اراضی کی ملکیت کے حقوق کی الیکٹرانک منتقلی کیلئے ڈیجیٹل اور بلاک چین پر مبنی نظام کے آغاز، فوجداری استغاثہ سروس میں اصلاحات اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔کابینہ نے وزیر زراعت محمد خان مہر کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی کی سفارش پر 25 ایکڑ تک کے کاشتکاروں کے لئے پیکیج کی منظوری دی۔ منظور شدہ طریقہ کار کے تحت اہل کاشتکاروں کو ڈی اے پی کھاد کی خریداری کے لئے مقررہ سبسڈی اور محکمہ خوراک کو گندم فراہم کرنے پر مقدار سے منسلک اضافی سبسڈی دی جائے گی، جسے ایک ہزار سے بڑھا کر دو ہزار روپے فی من کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سے تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار کاشتکار مستفید ہوں گے۔ سبسڈی کی رقوم سندھ بینک کے ذریعے بینظیر ہاری کارڈ اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی۔