• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مثلاً مجھے ڈاکٹربننے کا بہت شوق ہے لیکن ایم بی بی ایس سے جان جاتی ہے۔تو اگر کوئی میری حوصلہ افزائی کرے، مجھے تھپکی دے کہ تم میڈیکل کی تعلیم حاصل کیے بغیر بھی ڈاکٹر بن سکتے ہو تو ایسا بندے پر 302کا پرچہ ہوناچاہیے۔ ہمیں یہی پڑھایا جاتاہے کہ ہر کسی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے حالانکہ حوصلہ شکنی بھی اُتنی ہی ضروری ہے۔ہر وہ کام جو کسی کو نہیں آتا اور نہ اس میں صلاحیت ہے اس کی حوصلہ شکنی نہیں کریں گے تو پھر وہ حوصلہ افزائی کی تھپکی پاکر ایسا مسلط ہوگا کہ دنیا کہہ اٹھے گی’توبہ توبہ کرادتی توں ظالما۔‘چند مستثنیات کو چھوڑ کر ہر کام ہرکسی کے کرنے کا نہیں ہوتا۔آپ امریکہ کا صدر بننے کی ٹھان لیں تو کرتے رہیں کوشش اور مارتے رہیں ٹکریں ۔ جن لوگوں کو بلاوجہ کی حوصلہ افزائی ملتی ہے وہ عموماً نااہل ہوتے ہوئے بھی ساتویں آسمان پرچڑھ بیٹھتے ہیں جہاں سے اُنہیں نیچے اتارنا ممکن نہیں رہتا البتہ کوئی اللہ کا بندہ ہمت کرکے دھکا دیتا ہے تو یہ اوقات میں آجاتے ہیں ۔ہمارے ایک ٹیچر ہوا کرتے تھے جو نہ بچوں کو مارتے تھے نہ گالی دیتے تھے لیکن اگر کسی سے غلطی ہوتی تھی تو بڑے میٹھے انداز میں پوری کلاس کے سامنے اس کا وہ مذاق بناتے تھے کہ لڑکے کو چاچی یاد آجاتی تھی۔میری نسل کے جن لوگوں کو اُستادوں کے ڈنڈے پڑے، گالیاں پڑیں ، مذاق کا نشانہ بننا پڑا اُن میں سے کتنے ہیں جن کا ’اعتماد‘ متاثر ہوگیا؟اُلٹایہ نسل ایسی سدھری ہوئی ہے کہ آج بھی مٹھی بند کرکے انگلیوں کی مددسے ایک منٹ میں بتا سکتی ہے کہ کس مہینے میں کتنے دن ہوتے ہیں ۔حوصلہ افزائی کے نام پر ہم نے نئی نسل کو اوور کانفیڈنٹ کر دیا ہے۔اسی لیے انہیں چھوٹی چھوٹی بات بھی چبھنے لگی ہے۔انہیں لگتا ہے کہ یہ غلط ہوہی نہیں سکتے۔فی زمانہ تو کوئی ایسی ٹریننگ ہونی چاہیے جس میں والدین کی بھی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

٭ ٭ ٭

آپ نے اکثر اسٹیج کامیڈینز کے بارے میں سنا ہوگا کہ یہ کسمپرسی کے عالم میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ یہ بات سچ ہے لیکن اس کے پیچھے کا بھی ایک بھیانک سچ ہے جو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔اسٹیج کامیڈینز عموماً پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔یہاں اگرشومئی قسمت سے کسی نے بی اے کیا ہوا ہو تواسے ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ تصور کیا جاتاہے۔ہوتا کیا ہے کہ ایک آرٹسٹ جب اسٹیج کی دنیا میں قدم رکھتاہے اور اسے کچھ شہرت ملنا شروع ہوتی ہے تواکثر اسٹیج کا کوئی پروڈیوسر اسے آفر کرتاہے کہ پانچ مرلے کا مکان اور نئی گاڑی لے لو اور میرے ساتھ ایگریمنٹ کرلو۔پیشکش اتنی پرکشش ہوتی ہے کہ ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ آرٹسٹ پلاننگ سمجھ ہی نہیں پاتا اور جھٹ سے ایگریمنٹ سائن کر دیتاہے۔اس کے بعد آرٹسٹ اُس پروڈیوسر کا ملازم ہوتاہے۔ جب تک وہ پروڈیوسر کے دیے گئے مکان اور گاڑی کی رقم مع سود واپس نہیں کر دیتا تب تک وہ پابند رہتاہے کہ صرف وہی ڈرامے کرے گا جہاں اسے پروڈیوسر بھیجے گا۔ایگریمنٹ کے مطابق آرٹسٹ کی ماہانہ سیلری بھی مقرر ہوتی ہے لیکن یہاں بھی گیم ہوجاتی ہے۔فرض کیا ایک کامیڈی آرٹسٹ کا نام الیاس ہے، وہ ماہانہ دو لاکھ کما رہا تھا لیکن پھر اس نے مکان اور گاڑی کے عوض ایک پروڈیوسر سے ایگریمنٹ کر لیا ۔اب الیاس کی آمدنی وہی رہے گی۔پروڈیوسر اسے ماہانہ دو لاکھ دینے کا پابند ہے لیکن اس میں سے وہ کچھ پیسے اپنی انوسٹمنٹ کی قسط کے بھی نکالے گا۔یعنی پھر فرض کرلیں کہ وہ پچاس ہزار ہر مہینے کاٹتاہے۔تو اب الیاس کے پاس مکان تو ہے، گاڑی بھی ہے لیکن اس کی آمدنی کم ہوکرماہانہ ڈیڑھ لاکھ ہوچکی ہے۔اب چونکہ الیاس اچھا آرٹسٹ ہے اس لیے لوگ اسے اپنے ڈراموں میں بُک کرناچاہتے ہیں لیکن اب اُس کا اختیار پروڈیوسر کے پاس ہے۔وہ الیاس کا ریٹ پانچ لاکھ بھی لگا سکتاہے لیکن الیاس کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ ہی ملیں گے۔اب الیاس روز بروز مقبول ہوتا چلا جاتاہے، مارکیٹ میں اس کی قیمت بھی بہت بڑھ جاتی ہے لیکن ایگریمنٹ کے مطابق الیاس کا اس پیسے پر کوئی حق نہیں ہوتا۔ڈیڑھ لاکھ میں اس کا گزارا نہیں ہوتا لہٰذا نہ وہ مکان کی قسطیں دے پاتاہے نہ خرچہ پورا کرسکتاہے۔بالآخر یہ مکان اور گاڑی کبھی نہ کبھی دوبارہ پروڈیوسر کے پاس پہنچ جاتی ہے اور الیاس اس دوران زندگی کی بازی ہارچکا ہوتاہے۔کئی آرٹسٹ اس چُنگل میں پھنسے، کچھ تگ و دو کرکے نکل گئے کچھ نہیں نکل پائے۔ایک اور سچ سن لیجئے۔ جن ڈانسر لڑکیوں کو آپ بھڑکیلے لباس میں اسٹیج پر ڈانس کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ان میں سے اکثر کو کبھی ڈرامہ ختم ہونے کے بعد واپس جاتے ہوئے دیکھئے گا۔ برقعہ پہن کر کسی آرٹسٹ کے ساتھ موٹر سائیکل پر لفٹ لے کرکسی کچی آبادی والے علاقے میں اپنے کرائے کے گھر پہنچتی ہیں اور بوڑھے باپ اور بہن بھائیوں کو خوشخبری سناتی ہیں کہ راشن کا بندوبست ہوگیا ہے۔اِن کو اکثر اتنا معاوضہ بھی نہیں ملتا جتنا فرنٹ سیٹوں پر بیٹھے تماشائی کے ایک ٹکٹ کی رقم بنتی ہے۔اسٹیج پر لاکھوں لینے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں زیادہ تر سسک سسک کرہی گزارا کرتے ہیں ۔ڈرامہ اور فلم انڈسٹری میں بھی یہی حال ہے۔جن لوگوں نے اسے روزگار بنایا ہوا ہے وہ اپنے شوق کے مارے ہوئے ہیں ۔جانتے ہیں کہ اس ملک میں ایک عام آرٹسٹ کی زندگی کیسی ہوتی ہے اسی لیے جن کے اختیار میں ہوتاہے وہ پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنی اولادوں کو پڑھاتے ہیں اور کسی ایسے روزگار کی طرف مائل کرتے ہیں جہاں سے کم ازکم اتنا پیسہ ضرور آسکے جس سے کسی سے قرض مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔آپ کسی ملک کی آرٹس کونسلز کی وہ لسٹیں دیکھیں جن میں آرٹسٹ فنڈ سے معمولی سی امداد حاصل کرنے والے فنکاروں کے نام درج ہیں تو شائدکئی نام دیکھ کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آئے۔

تازہ ترین