• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوال: بعض لوگ جہنم، جنّت یا فرشتوں وغیرہ کی طرف منسوب کرکے لطیفے سناتے ہیں یا لطیفہ نما باتیں کرتے ہیں، مثلًا: کوئی عورت خوبصورت نہ ہو، اور وہ میک اَپ کرکے خود کو خوبصورت ظاہر کرے تو یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ چہرہ دھوئے تو فرشتے بھی ڈر جائیں، یا موت کا فرشتہ بھی اسے نہ پہچانے کہ یہ وہی عورت ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے لطائف سنانے سے کیا ایمان پر فرق پڑتا ہے؟ ایک صاحب کہنے لگے کہ اس طرح ایمان ختم ہوجاتا ہے، اور کلمہ دوبارہ پڑھنا پڑتا ہے۔

جواب: مسلمان کو دینی معاملات میں ادب، سنجیدگی اور وقار کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے، اور مذہب سے متعلق امور کو مذاق اور لطیفہ گوئی کا موضوع بنانے سے ہی اجتناب کرنا چاہیے، لیکن اگر کسی نے سوال میں ذکر کردہ نوعیت پر مشتمل لطیفہ سنادیا تو مطلقاً ایمان ختم ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، اس لیے کہ محاورات کی طرح عموماً لطائف میں بھی ظاہری الفاظ کے بجائے معانی مقصود ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے لطائف کے ظاہری الفاظ پر مطلقاً حکم نہیں لگایا جاسکتا، بلکہ ہر جملے اور نوعیت کو دیکھ کر حکم بتایا جاسکتا ہے۔

جہاں تک آپ کے ذکر کردہ لطیفے کی بات ہے تو یہاں فرشتے کا استخفاف و تحقیر یا اس کے ڈر، خوف اور کمزوری کا اظہار مقصود نہیں ہے، بلکہ میک اَپ کے ذریعے ظاہر کی جانے والی مصنوعی خوبصورتی اور حقیقت میں بدصورتی کے فرق کو مبالغے کے ساتھ بتانا مقصود ہے، اس لیے مذکورہ جملہ کہنے سے ایمان ختم نہیں ہوگا، لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ دینی معاملات کو لطیفہ گوئی کا موضوع ہی نہیں بنانا چاہیے، کیوں کہ معمولی بے احتیاطی بھی ایمان کے لیے خطرے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے مذکورہ لطیفہ نما بات کہنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، اگر کسی نے کہہ دی تو احتیاطاً استغفار کرلینا چاہیے۔ (البحر الرائق، کتاب الجہاد، باب أحكام المرتدين 5/ 135 ط: دار الكتاب الإسلامي -ردّ المحتار، رد المحتار، كتاب الجهاد، باب المرتد، 4/ 230 ط: سعيد )

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید