سوال: پانی فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام نے تو فی سبیل اللہ پانی پلانے کی ترغیب دی ہے۔ جب کہ میں نے فلٹر پلانٹ لگا کر پانی کا کاروبار شروع کیا ہے، اس وجہ سے مجھے شبہ ہو رہا ہے کہ یہ کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: دریا، نہر اور چشموں وغیرہ کا پانی سب کے لیے عام ہے، اسے اپنے پاس کسی برتن وغیرہ میں لینے سے پہلے بیچنا یا کسی اور کو اس کے استعمال سے روکنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر پانی کسی برتن، بوتل، گیلن یا ٹینک وغیرہ میں محفوظ کرلیا جائے تو وہ اس شخص کی ملکیت بن جاتا ہے جس نے اسے اپنے پاس محفوظ کیا ہو، پھر اس کے لیے اپنے مملوکہ پانی کو فروخت کرنا جائز ہے، اس کی آمدن میں کسی قسم کی کراہت نہیں ہے، البتہ پانی کی قیمت لوگوں کے تحمل سے زیادہ نہیں رکھنی چاہیے، کیوں کہ اس سے نہ صرف انسان، بلکہ ہر جاندار کی بقا و زندگی وابستہ ہے۔
غرض آپ شبہ نہ کیجیے، پانی کا پلانٹ لگا کر پانی کا کاروبار جائز ہے، بشرطیکہ اس کے اجازت نامے وغیرہ کے حوالے سے قانونی تقاضے بھی پورے کیے جائیں اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی بھی رعایت رکھی جائے۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk