علّامہ ڈاکٹر ہشام الٰہی ظہیر
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس نے عبادات کے ساتھ ساتھ معاشرتی تعلقات کے بھی واضح اصول بیان کیے ہیں۔ ان میں پڑوسی کے حقوق کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ انسان اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں جن لوگوں کے ساتھ روزانہ زندگی گزارتا ہے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اس کے اچھے اخلاق اور ایمان کی علامت ہے۔
پڑوسی کی اہمیت:۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ: جبرائیل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے۔(صحیح البخاری، صحیح مسلم) یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پڑوسی کے حقوق اسلام میں معمولی معاملہ نہیں، بلکہ انتہائی اہم معاشرتی ذمہ داری ہیں۔
پڑوسی کو ایذا نہ دینا۔ پڑوسی کا سب سے بنیادی حق یہ ہے کہ وہ ہماری طرف سے ہر قسم کی تکلیف سے محفوظ رہے۔ زبان سے برا کہنا، بدتمیزی کرنا، بلاوجہ شور کرنا، راستہ روکنا، گندگی پھیلانا، گاڑی اس کے راستے میں کھڑی کرنا یا کسی بھی انداز سے اسے پریشان کرنا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: اللہ کی قسم! وہ مؤمن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مؤمن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مؤمن نہیں، جس کا پڑوسی اس کی تکلیف دہ حرکتوں سے محفوظ نہ ہو۔(صحیح البخاری)
پڑوسی کی ضرورت کا خیال:۔ اگر پڑوسی ضرورت مند ہو تو اس کی مدد کرنا، بھوکا ہو تو اسے کھانا دینا، بیمار ہو تو اس کی عیادت کرنا اور کسی مشکل میں مبتلا ہو تو اس کا سہارا بننا مسلمان کی ذمہ داری ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: وہ شخص کامل مؤمن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو۔(الأدب المفرد)
پڑوسی کی عزت اور پردے کی حفاظت:۔ پڑوسی کے گھر کے معاملات کو دوسروں میں بیان کرنا، اس کے گھریلو حالات کی ٹوہ لگانا، اس کی کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے ذکر کرنا یا اس کی عزت کو نقصان پہنچانا انتہائی نامناسب عمل ہے۔ اچھا پڑوسی وہ ہے جس کے بارے میں دوسروں کو اطمینان ہو کہ وہ ہماری غیر موجودگی میں بھی ہماری عزت، مال اور گھر کے معاملات کی حفاظت کرے گا۔
خوشی اور غمی میں ساتھ دینا:۔ پڑوسی کی خوشی میں شریک ہونا اور غم کے وقت اس کے ساتھ کھڑا ہونا دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔ اس کی بیماری میں خیریت پوچھنا، مصیبت میں تسلی دینا، وفات کی صورت میں اہلِ خانہ سے تعزیت کرنا اور ضرورت کے وقت عملی مدد کرنا حسنِ سلوک میں شامل ہے۔
معمولی چیز کو حقیر نہ سمجھنا:۔ محبت ہمیشہ بڑی چیزوں سے نہیں ہوتی۔ کبھی ایک سلام، ایک مسکراہٹ، تھوڑا سا کھانا، ایک معمولی تحفہ یا خیرخواہی کے چند الفاظ بھی تعلقات کو مضبوط بنا دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے کسی چیز کو معمولی نہ سمجھے، خواہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
اپنے گھر کے معاملات میں پڑوسی کا خیال:۔ گھر کی تعمیر، بلند آواز، بچوں کے کھیل، پانی کے استعمال، کچرا پھینکنے، گاڑی کھڑی کرنے اور راستے کے استعمال میں پڑوسی کی سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔ جو کام ہمیں اپنے لیے ناگوار محسوس ہو، وہ دوسروں کے لیے بھی نہیں کرنا چاہیے۔
غیر مسلم پڑوسی کے حقوق:۔ پڑوسی کا حسنِ سلوک صرف مسلمان پڑوسی تک محدود نہیں۔ غیر مسلم پڑوسی کے ساتھ بھی عدل، اچھے اخلاق، خیرخواہی اور انسانی ہمدردی کا معاملہ کیا جائے۔ اسلام نے پڑوسی ہونے کی وجہ سے حسنِ سلوک کا حق تسلیم کیا ہے۔
تین قسم کے پڑوسی:۔ علماء نے احادیث کی روشنی میں پڑوسیوں کی مختلف قسمیں بیان کی ہیں۔ بعض پڑوسیوں کے کئی حقوق جمع ہوجاتے ہیں، مثلاً رشتہ دار اور مسلمان پڑوسی۔ کسی کے دو حقوق ہوتے ہیں، جیسے مسلمان پڑوسی، اور کسی کا ایک حق، جیسے غیر مسلم پڑوسی۔ اس لیے پڑوسیوں کے ساتھ تعلق میں ان کے حقوق کا لحاظ ضروری ہے۔