• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے ایک دوست ڈاکٹر ہیں ا وراپنے کچھ واقعات سناتے رہتے ہیں۔بتانے لگے کہ ایک دفعہ میرے پاس ایک شوہر اپنی اہلیہ کو لے کر آئے۔خاتون کی صحت خراب تھی اور وہ جسمانی کمزوری کا شکار تھیں۔ میں نے شوہر سے کہا کہ آپ اِن کو دوائیوں کے ساتھ ساتھ اچھی خوراک بھی دیں۔شوہر نے پوچھا کہ کس قسم کی خوراک؟۔میں نے بتایا کہ تازہ پھل، ڈرائی فروٹس اوردیسی مرغی کھلائیں۔انہوں نے غور سے میری طرف دیکھا اور فرمایا’پچاس ہزار تنخواہ ہے میری اور کرائے کا گھر ہے۔یہ جو ساری چیزیں آپ بتا رہے ہیں کیا میں یہ افورڈ کرسکتاہوں؟‘۔اس پر ڈاکٹر صاحب بھی تھوڑا شرمندہ ہوگئے کہ میں تو علاج ہی بتا سکتاہوں۔غریب سے غریب بندہ بھی جانتا ہے کہ سردرد کا علاج گولی سے زیادہ گرم دودھ پینے میں ہے لیکن دودھ ساڑھے تین سو روپے کلو اور اسپرین کی گولی دس روپے میں مل رہی ہو تو صاف ظاہر ہے غریب کس کو ترجیح دے گا۔پھل ضرور کھانے چاہئیں لیکن کیا صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے؟جو بندہ گلی محلے میں بیٹھے پانچ سو روپے والے ڈاکٹر کی فیس نہیں افورڈ کر رہا وہ اس سے دوگنی قیمت کا پھل کہاں سے خریدکرکھائے؟یہ مشورے اُن کے لیے کارآمد ہیں جن میں نعمت خریدنے کی استطاعت ہے۔غریب کو تو سستے کیلے مل رہے ہوں تو وہ بیٹھے بیٹھے ایک درجن کیلے کھا جاتاہے۔آرگینک فوڈ غریب کا مسئلہ نہیں۔اسے گندے تیل میں بنے ہوئے سموسے بھی ملیں گے تو وہ مزے لے لے کر کھائے گا۔آپ آئے روز سنتے ہوں گے کہ گھی صحت کے لیے مضر ہے، برائلرمرغی کا گوشت نہیں کھانا چاہیے، انڈے صحت کے لیے بہت مفید ہیں، اخروٹ اور کاجو دماغی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔ بالکل ٹھیک کہا۔ لیکن یہ لگژری کتنے لوگ افورڈ کرسکتے ہیں؟زیادہ کھانے کی طرح غیر معیاری کھانا بھی موٹاپے کی وجوہات کا باعث بنتاہے لیکن غیر معیاری کھانا سستا ہوتاہے، پیٹ بھردیتاہے اور سسکنے نہیں دیتا۔اسی لیے عوام میں مقبول بھی ہوتا ہے۔

٭ ٭ ٭

ترقی یافتہ ممالک میں جسمانی محنت کی بہت قدر ہے۔جو لوگ پلمبر ہیں، مکینک ہیں، ٹیکسی ڈرائیور ہیں، سوئپر ہیں وہ بہت اچھا کماتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں دماغی کام کی مانگ ہے۔ جسمانی کام کرنے والے دیہاڑی دار مزدوروں سے کہیں زیادہ پیسے اُن کے حصے میں آتے ہیں جو اے سی کمروں میں بیٹھ کر بہترین ماحول میں دماغی کام کرتے ہیں۔لیکن حالات بدل رہے ہیں۔ دماغی کام والوں کی ساری ذمہ داری اے آئی پر آرہی ہے۔ اب یا تو کوئی بہت ہی ذہین دماغ پیسے کمائے گا یا کوئی عملی ہنرسیکھنا پڑے گا۔فی الحال کافی عرصے تک اے آئی کسی انسانی مدد کے بغیر گاڑی کا پنکچر نہیں لگا سکتی، انجن نہیں کھول سکتی،موٹر سائیکل کی ٹیوننگ نہیں کر سکتی، کھانے نہیں بنا سکتی، ٹونٹیاں نہیں ٹھیک کرسکتی، سوئچ بورڈ میں کوئی ساکٹ نہیں بدل سکتی، مردے نہیں دفنا سکتی۔ یہ سارے کام انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں۔وہ وقت قریب ہے جب سوچنے سمجھنے والے سڑکوں پر ہوں گے اور باہنر ہاتھوں والوں کا لیول ہی الگ ہوگا۔اب جوپلمبر مسلم شاور لگانے کے پانچ سو لیتا ہے تب پانچ ہزار مانگے گا۔لیکن وہ لوگ جو گھر کے کئی چھوٹے موٹے کام سیکھ کر خود کرلیتے ہیں انہیں بڑی سہولت ہوگی۔آپ نے انگریزی فلموں میں اکثر دیکھا ہوگا کہ ہر گھر میں ایک نہ ایک ایسا کمرہ ضرور ہوتاہے جہاں ریتی، آری، ڈرل مشین، پیچ کس دیگر اوزاراور رنگ و روغن کا سامان موجود ہوتا ہے۔ اس لیے کہ وہاں کسی پلمبر کو بلانے سے پورے مہینے کا بجٹ ڈسٹرب ہوجاتاہے لہٰذا ہر بندہ خود ہی چھوٹا موٹا مکینک، پلمبر اور مستری ہوتاہے۔وہاں خود سے کسی چیز کو ٹھیک کرلینا فخر کی بات ہوتی ہے اور یہاں کئی گھروں میں بلب لگانے کے لیے بھی الیکٹریشن کو بلا لیا جاتاہے۔دُنیا مرمت کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ہم مرمت ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔

چونکہ بات اے آئی کی ہورہی ہے تو تھوڑا دوسرا منظر بھی دیکھتے ہیں۔ اے آئی بنانے والوں کا کہنا ہے کہ انسانی محنت بہت کم ہوجائیگی۔خوراک زیادہ مقدار میں پیدا ہوگی کیونکہ اے آئی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی۔روپیہ پیسہ ٹکے ٹوکری ہوجائے گا کیونکہ بنیادی ضروریات ہر کسی کو نصیب ہوچکی ہوں گی۔اسکول، کالج، آفس، ڈاکٹر، رائٹر، ڈائریکٹر، ایڈیٹر، اخبار، ٹی وی، موسیقار، گلوکار سب قصہ پارینہ بن چکے ہوں گے۔لیکن کچھ بنیادی مسائل پھر بھی رہیں گے۔مثلاً گھروں کا مسئلہ کیسے حل ہوگا۔ کیا اے آئی کرائے داروں کو مالک مکان میں تبدیل کرسکے گی؟جب کسی کے کرنے کو کچھ نہیں ہوگا تو کیا تب کچھ بھی کرنے کو نہیں ہوگا؟ایسے میں کرونا کے دنوں والی سچویشن تو نہیں پیش آجائے گی جب سب گھروں میں ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے تھے۔ایسے کئی سوالات ذہن میں پیدا تو ہوتے ہیں لیکن ان کا جواب وقت آنے پر ہی ملے گا۔ایسا ہونہیں سکتا کہ ٹیکنالوجی کی یہ ترقی نئے روزگار کو جنم نہ دے۔

موبائل کی آمد سے پہلے موبائل کی دکانیں اور ورکشاپس نہیں ہوتی تھیں۔اے آئی نے روبوٹ بنائے تو ہوسکتا ہے روبوٹ ٹھیک کرنے والی دکانیں بھی کھل جائیں اور گلی گلی یہ بورڈ لگے ہوئے نظر آئیں کہ ہر قسم کا روبوٹ بازار سے بارعایت خرید فرمائیں یا اپنے روبوٹ میں روٹیاں بنانے والا سافٹ ویئر انسٹال کروائیں۔حالات بدلنے کو ہیں، کسی بھی وقت ایک لہر آسکتی ہے اور جو بھی جرم ضعیفی کا مرتکب قرار پائے گا اسے مرگ مفاجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اے آئی اب بھی لوگوں کی تنہائی کی ساتھی ہے۔کئی لوگ اس سے انسانوں کی طرح بات کرتے ہیںاور اُس کی آواز میں دلاسہ سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اس افراتفری کے دور میں کوئی تو ہے جو ان کی بات سننے پر آمادہ ہے۔

تازہ ترین