• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

23ستمبر کی صبح افغانستان سے پاکستان کی فضائی حدود میں 8 ڈرونز چھوڑے گئے جنہیں پاکستانی ائیر ڈیفنس نے فضا میں ہی مار گرایا۔ 4 ڈرون طورخم کے نزدیک جبکہ چار کوہاٹ کے قریب شکار کیے گئے۔ حکومتِ پاکستان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور افغان حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔بعد ازاں پاکستان نے اپنی فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے 10 ایسے افغان اہداف کو نشانہ بنایا جہاں ڈرونز کا ذخیرہ اور ڈرون لانچنگ نیٹ ورک فعال تھے۔ پاکستان نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اپنی سرزمین کو پاکستان میں در اندازی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے استعمال نہ ہونے دے۔ اُدھر افغان حکومت نے جواباً پاکستان کے حملوں کو اپنی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے مناسب اور نپے تلےجواب کا عندیہ دیا ۔ پاکستان ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین سے در اندازی کے حوالے سے طالبان حکومت سے مذاکرات کے کئی دور چلا چکا ہے جن میں چار تو بین الاقوامی سطح پر بھی ہوئے ۔ علاوہ ازیں 20 سے زائد ڈیمارش یعنی اظہارِ ناپسندیدگی کے خطوط بھی پاکستان نے افغان حکومت کو جاری کئے ۔ محض پانچ سال میں ہمارے باہمی تعلقات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں لگتا ہے کہ ہم نے 42 سال تک جن کا ہاتھ تھاما، مشکل وقت میں سہارا دیا، اپنے سینے سے لگایا، آج وہ ہم سے بے وفائی کر کے ہمارے دشمن کیمپ میں بیٹھے ہیں جبکہ عام افغان کہتے ہیں کہ یہ باہمی چپقلشیں تو حکومتوں کے درمیان ہیں،ہم تو پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ہمارے بچے آج تعلیم یافتہ ہیں تو پاکستان کے باعث، کاروبار کے جدید طریقوں بینکنگ وغیرہ سے آشنا ہیں تو پاکستان کی وجہ سے۔ ہمارے ترانے ،کھیلوں کے ہیروز سب پاکستانی ہیں۔ بہت سوں کی شادیاں پاکستانی لڑکیوں سے ہوئی ہیں جو آج افغانستان میں جبری طور پر بھیجی گئی ہیں۔ وہ پاکستان کے لئے اداس ہیں اور آئے روز سوشل میڈیا پر انکی درد بھری روتی ٹک ٹاک وڈیوز گردش کرتی ہیں۔ بظاہر پاکستان کے ویزے بند ہیں جبکہ مبینہ طور پرکابل میں پاکستانی سفارت خانہ 3500 امریکی ڈالر لے کر ویزا جاری کرتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت کابل سے آنے والی بھری ہوئی فلائٹس ہیں جن پر 10سے 12 روز تک سیٹ نہیں ملتی۔ اُدھر غیر قانونی افغان جو زبردستی افغانستان بھیجے جا رہے ہیں ان میں سے بہت سے مبینہ طور پر دو لاکھ پاکستانی روپے دے کر واپس پاکستان آ جاتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ویزا فیس نہ ہے تو یہ ویزا کی کثیر رقم کس کی جیب میں جا رہی ہے ؟ اسلام ہمیں خلوص، محبت ، بھائی چارے اور ہمدری کا سبق دیتا ہے۔ وہ افغان جو علاج کی غرض سے پاکستان آنا چاہتے ہیں اتنی بھاری رقم ادا نہیں کر سکتے۔ ہمیں چائیے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تفتیش کے بعد ایسے لوگوں کو ویزہ جاری کریں ۔ یہ کیسے بھائی چارے، محبت اور خلوص کے رشتے ہیں جو انصارِ مدینہ کے نقشِ قدم پر استوار ہوئے لیکن کفارِ مکہ جیسی دشمنی میں بدل گئے۔ آخر وہ کیا محرکات ہیں جنہوں نے ہمیں بات چیت و مذاکرات کی میز سے اٹھا کر لڑنے لڑانے پر مائل کر دیا ہے ۔

1979سے پہلے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے جن کی بنیادی وجوہ قیامِ پاکستان سے موجود تھیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان یہ خلیج کسی طور کم نہ ہو سکی تھی۔ سوویت یونین کے خلاف افغان مزاحمت کو دو سال تک جنرل ضیاء الحقؒ نے انتہائی فراست سے ہر قسم کا تعاون فراہم کیا۔ تاہم جو لوگ الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان نے امریکہ کی جنگ لڑی، وہ جانتے ہی نہیں کہ ان ابتدائی دو سالوں میں پاکستان نے نہ صرف اپنے ذرائع سے افغان مزاحمت کی مدد کی بلکہ بین الاقوامی طور پر اس مزاحمت کو تسلیم بھی کروایا۔ امریکہ حسبِ عادت ہر جنگ جیتنے کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے اس کاجنگ میں صرف %25 حصہ تھا جبکہ سعودی عرب ، دیگر ممالک اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو بقیہ 75 فیصد کا کریڈٹ جاتا ہے۔ تاہم جیسے ایران سے جنگ ہار کر امریکہ خود کو فاتح کہلوانے پر بضد ہے بعینی سوویت یونین توڑنے کا کریڈٹ بھی اسی نے لیا۔ 2021 میں بھی افغانستان سے رات کی تاریکی میں بھاگنےکے باوجود امریکی اسٹیبلشمنٹ نے کانگریس میں پاکستان کو اپنی شکست پر مورد الزام ٹھہرایا۔2001 میں صدر مشرف نے امریکی خواہش پر سرنگوں ہو کر پاکستان کی تسلیم شدہ امارت اسلامی افغانستان حکومت کا سودا کیا، افغان سفیر کو امریکہ کے حوالے کیا، افغانوں کی مدد کے الزام میں سینکڑوں پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکہ کو بیچا، طالبان قیادت کے اہم اراکین کو بِنا ٹرائل ناجائز قید میں رکھا۔ 2021 میں کابل فتح ہوا تو طالبان نے فتح مکہ کی طرز پر عام معافی کا اعلان کیا، پاکستان بڑا بھائی تھا لہٰذا اس کے طالبان مخالف اقدامات پر صرف ِنظر کیا گیا۔ اس کے برعکس ہم نے اغیار کی خواہش پر اماراتِ اسلامی کی حکومت تسلیم نہیں کی، جواز گھڑا کہ باقی دنیا تسلیم کرے گی تو ہم بھی کر لیں گے یعنی ہم پہل کرنے کے بجائے قطار کے آخر میں جا کھڑے ہوئے۔ کیوں کیا ہم نے ایسا؟ پاکستان انہیں تسلیم ہی نہیں کرتا تو ان سے افغان ریاست کی ذمہ داری نبھانے کی امید کرنے پر کیسے حق بجانب ہے؟ میڈیا پر ہم افغانوں پر 42 سال کے احسانوں کا تذکرہ ایسے کرتےہیں کہ وہ گالی کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔ بیچارے پاکستان ہمدرد افغان اپنے لوگوں کے سامنے لاجواب ہوجاتے جب انہیں پاکستان کے دو غلے پن کے طعنے سہنے پڑتے ہیں۔ ٹی ٹی پی ہو، کرزئی ہو یا اشرف غنی کا 20 سالہ دورِ حکومت، ہندوستان سے خوب محبت کی پینگیں بڑھائی گئیں جبکہ افغان فوج کی تربیت بھی ہندوستان نے کی یعنی دو نسلوں پر پاکستان مخالف ہندوستانی اور امریکی پراپرگنڈے کا بھرپور اثر تھا۔ ایسے وقت میں صبر، محبت، اخوت و بھائی چارے سے حالات کا رخ اپنی جانب موڑا جا سکتا تھا لیکن ہمارے اربابِ اختیار کی ناعاقبت اندیشی سے ہم جیتی ہوئی بازی ہار گئے۔

آج ہم افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بم برسا کر کیا کر لیں گے ؟ کیا امریکہ نے ڈیزی کٹر بم گرا کر دیکھ نہیں لیے؟ یورپی اتحادی فورسز ہوں یا سوویت یونین ، سب نے افغانستان میں اپنی بھرپور طاقت لگا کر دیکھ لیا ہے لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ ہماری حکومتوں سے یہ سوال ہے کہ ہم نے اپنے دوست کو کیسے دشمن بنا لیا؟ کیسے اپنے کئے کرائے پر پانی پھیرا؟ ہماری صفوں میں ایسے دشمن تو نہیں گھس آئے جو ہمیں دو فرنٹ پر الجھا کر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کہیں ہم انجانے میں اس راستے پر تو گامزن نہیں جس پر ہمارے دشمن کی نجات ہے۔ پاکستان کو مشرقی محاذ پر یکسو رہنے دینے کے بجائے مغربی محاذ پر الجھانے کی کامیاب واردات کا سہرا آخر کس کے سر ہے؟ آج ہمیں از سرِ نو افغانستان پالسی ریویو کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مرض کی تشخیص کے بعد ہی علاج ممکن ہوتا ہے۔

؎یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی

اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

تازہ ترین