• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں انتخابی بحران، سڑک سے پارلیمنٹ تک محاذ آرائی

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت میں انتخابی بحران، سڑک سے پارلیمنٹ تک محاذ آرائی، آئندہ ریاستی انتخابات سے قبل بحران شدید، مودی حکومت کو نئے چیلنج کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کی ملک گیر تحریک شدت اختیار کر رہی ہے، پارلیمنٹ میں عدم اعتماد نوٹس، معاملہ عدالت پہنچ گیا۔

نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے الٹی میٹم دے کر سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ 

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 24 ستمبر کو چیف الیکشن کمشنر کو 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں 2 اکتوبر گاندھی جینتی سے ممبئی سے ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ 

یاد رہے کہ یہ وہی تحریک ہے جس نے جولائی 2026ء میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کر کے وزیر تعلیم کا استعفیٰ لینے میں کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد اسے ایک مؤثر عوامی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب کانگریس کی قیادت میں’انڈیا بلاک‘سمیت اپوزیشن جماعتوں نے 25 ستمبر سے ملک گیر احتجاج شروع کر رکھا ہے، جو چندی گڑھ، پٹنہ، گوہاٹی، لکھنؤ، دہرادون اور جموں و کشمیر تک پھیل چکا ہے۔

اپوزیشن کی ملک گیر تحریک کے تحت کئی شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کارروائی میں آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا اور متعدد رہنماؤں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ 2024ء انتخابات جعلی تھے، ووٹ چوری کیا گیا جبکہ بی جے پی نے تردید کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کا حکومت کے خلاف سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید