کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت میں انتخابی بحران ، سڑک سے پارلیمنٹ تک محاذ آرائی ،آئندہ ریاستی انتخابات سے قبل بحران شدید، مودی حکومت کو نیا چیلنج، کاکروچ جنتا پارٹی کا الٹی میٹم، چیف الیکشن کمشنرکے استعفے کی ڈیڈ لائن،2 اکتوبر سے ملک گیر احتجاج کی دھمکی، ممبئی سے تحریک کا آغاز متوقع، اپوزیشن کی ملک گیر تحریک، کئی شہروں میں مظاہرے اور پولیس کارروائی، آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال، متعدد رہنما حراست میں،راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ 2024 انتخابات جعلی تھے، ووٹ چوری کیا گیا ، بی جے پی کی تردید، اپوزیشن پر سیاسی پروپیگنڈے کا الزام، پارلیمنٹ میں عدم اعتماد نوٹس، معاملہ عدالت پہنچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کی ملک گیر تحریک شدت اختیار کر رہی ہے، وہیں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لئے الٹی میٹم دے کر سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے-تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 24 ستمبر کو چیف الیکشن کمشنر کو 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں 2 اکتوبر گاندھی جینتی سے ممبئی سے ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ یہ وہی تحریک ہے جس نے جولائی 2026 میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کر کے وزیر تعلیم کا استعفیٰ لینے میں کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد اسے ایک مؤثر عوامی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ادھر کانگریس کی قیادت میں “انڈیا بلاک” سمیت اپوزیشن جماعتوں نے 25 ستمبر سے ملک گیر احتجاج شروع کر رکھا ہے، جو چندی گڑھ، پٹنہ، گوہاٹی، لکھنؤ، دہرادون اور جموں و کشمیر تک پھیل چکا ہے۔