کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت کا انتخابی نظام اہم موڑ پر، ادارہ جاتی اعتماد اور ووٹر لسٹ ساکھ متاثر۔تحقیقاتی رپورٹ سے الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات منظر عام، یکطرفہ فیصلوں کے الزامات نے تنازع بڑھا دیا۔ دو کمشنروں نےدس ماہ میں 14 مرتبہ تحریری اعتراضات ریکارڈ کرائے، جون 2025 سے اب تک 1 کروڑ 30 لاکھ ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج کئے گئے، فارم 6 اور ووٹر ڈیٹا مینجمنٹ پر اختلافات سامنے آئے،کمیشن نے مشتبہ ووٹرز کی گھریلو تصدیق اور آن لائن سماعتوں کی نئی ہدایات دیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق بحران شدت اختیار کر گیا ، جہاں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندرونی اختلافات، ووٹر لسٹوں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ناموں کے حذف، اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر اپوزیشن جماعتوں کے سنگین الزامات اور سیاسی دباؤنے ملک بھر میں احتجاج کی لہر دوڑا دی اور ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے-اس کی ابتدا 23 ستمبر کو بھارتی اخبار کی ایک تحقیقاتی رپورٹ سے ہوئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور ویوک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلوں کے خلاف کم از کم 14 مرتبہ باقاعدہ تحریری اعتراضات ریکارڈ کرائے ہیں۔ یہ اختلافات خاص طور پر اسپیشل انٹینسیو ریویژن، فارم 6 میں تبدیلیوں اور ووٹر ڈیٹا مینجمنٹ سے متعلق تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق تین رکنی کمیشن میں فیصلے اکثریتی بنیاد پر ہونا لازم ہیں، تاہم یکطرفہ فیصلوں کے الزامات نے ادارہ جاتی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ایس آئی آر مہم کے تحت جون 2025 سے اب تک تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج کئے جا چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ یہ عمل غیر متوازن ہے اور اس میں غریب، مزدور اور اقلیتی طبقات زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ حکومتی حلقے اسے ووٹر لسٹ کی درستگی اور صفائی قرار دیتے ہیں۔