• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی سپریم کورٹ، براہ راست نشریات کی آڈیو بند، شفافیت پر سنگین سوالات

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت میں گزشتہ چند ماہ کے دوران سپریم کورٹ کی شفافیت، غیر جانبداری اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر معتبر میڈیا، قانونی ماہرین، سیاسی حلقوں اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی تحفظات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے جمہوری نظام کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو متاثر کرنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔سپریم کورٹ کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات شدت اختیار کر گئے اور جب چیف جسٹس سوریا کانب کی عدالت میں براہ راست نشریات کے دوران آڈیو بند کر دی گئی، جبکہ چیف الیکشن کمشنر گیا نیشن کمار کی بیٹی کو ریلیف دیا گیا، الہٰ آباد کی ہائیکورٹ نے ایک طالبہ کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جرمانہ عائد کیا لیکن سپریم کورٹ نے کیس جونیئر بینچ کو منتقل کر دیا، نوئیڈا ڈی ایم کیس کی سماعت کے دوران آڈیو بند کر دیا گیا، سلیکٹیولی سائلنٹ لائیو اسٹریم پر قانونی ماہرین کی سخت تنقید، وکلاء تنظیموں نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر میڈیا کی ویڈیو فیڈ تک رسائی محدود کرنے پر احتجاج کیا۔ سپریم کورٹ کی کارروائیوں میں شفافیت کے حوالے سے بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب 29 جولائی کو چیف جسٹس سوریا کانت کی عدالت میں لائیو اسٹریمنگ کے دوران آڈیو کو مکمل طور پر مْیوٹ کر دیا گیا۔ یہ اقدام اُس وقت کیا گیا جب وکلاء نے فوری نوعیت کے مقدمات پیش کیے۔ اس سے قبل 23 ستمبر کو نوئیڈا کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مِیدھا روپم کے کیس کی سماعت کے دوران بھی یہی طرز عمل اپنایا گیا، جسے عدالتی شفافیت کے اصولوں کے منافی قرار دیا گیا۔قانونی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے سلیکٹیولی سائلنٹ لائیو اسٹریم قرار دیا، اور مؤقف اختیار کیا کہ اگرمخصوص لوگوں کا حوالہ نہ دینا( مینشنگ) صرف انتظامی عمل ہے تو اسے چھپانے کی کوئی منطقی وجہ نہیں، اور اگر یہ بنیادی حقوق سے متعلق ہے تو عوام کو اسے سننے کا حق حاصل ہے۔ لائرز ایسوسی ایشن فار کنسٹیٹیوشن نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر میڈیا کی ویڈیو فیڈ تک رسائی محدود کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا، جبکہ بھارتی ٹی وی نے اسے ہائبرڈ سماعتوں کے آغاز کے بعد پہلا غیر معمولی واقعہ قرار دیا۔ نوئیڈا کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مِیدھا روپم جو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بیٹی ہیں کے مقدمے نے عدالتی غیر جانبداری سے متعلق مزید سوالات کو جنم دیا۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 2 ستمبر کو ایک طالبہ کی این ایس اے کے تحت حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 5 لاکھ بھارتی روپے ہرجانہ روپم کی تنخواہ سے وصول کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ میں اپیل کو ایک ایسے بینچ کے سامنے مقرر کیا گیا جو اس سے متعلق دیگر مقدمات نہیں سن رہا تھا۔

اہم خبریں سے مزید