• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: نقیب اللہ قتل کیس، ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا

مقتول نقیب اللہ محسود۔
مقتول نقیب اللہ محسود۔

کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کو بری کیے جانے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ عدم شواہد کی بنا پر شعیب شوٹر اور سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 ملزمان بری کیے گئے۔ 

بری ہونے والوں میں گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجا شمیم اور محسن عباس بھی شامل ہیں۔ 

تفصیلی فیصلے کے مطابق استغاثہ موجودہ سات ملزمان کے خلاف براہ راست عینی شہادت پیش نہیں کرسکا، گواہان نے عدالت میں موجود ملزمان کو اغوا کاروں کے طور پر شناخت نہیں کیا۔ 

تفصیلی فیصلے کے مطابق دونوں گواہان نے تاوان کی رقم کے مطالبے یا ادائیگی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا،  تفتیشی افسر کے سامنے ملزمان کے مبینہ اعترافی بیانات بھی قابل اعتماد قانونی شہادت نہیں۔ 

تفصیلی فیصلے کے مطابق قانون کے تحت پولیس افسر کے سامنے اعتراف جرم قابل قبول نہیں ہے، ملزمان کے خلاف براہ راست عینی شہادت موجود نہیں ہے، استغاثہ الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 

فیصلے کے مطابق شک کا فائدہ ملزمان کو دیا جاتا ہے، استغاثہ کے اہم گواہان کی شہادت ملزمان کو جرائم سے جوڑنے کے لیے کافی نہیں۔ 

تفصیلی فیصلے کے مطابق موجودہ ملزمان کے خلاف سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا گیا، سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران واہلکار پہلے ہی بری ہوچکے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید