• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب و امریکا میں یمن اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر اہم گفتگو

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واشنگٹن میں ملاقات کی ہے، جس میں علاقائی سلامتی اور استحکام پر بات چیت، ایران، غزہ، سوڈان اور یمن کی صورتِ حال سمیت آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمد و رفت کے تحفظ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ اور سعودی وزیرِ خارجہ کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں کارروائیاں تیز کرنے کے ساتھ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں سیاسی و سیکیورٹی صورتِ حال، یمن کے بحران اور اس کے حل کے لیے جاری کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ 

دونوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ آمد و رفت یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات سے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد طلب کی تھی۔

عرب میڈیا نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے براہِ راست حملے کرنے سے انکار کیا ہے تاہم سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معاونت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب مارکو روبیو نے لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام سے بھی ملاقات کی، نواف سلام نے امریکا سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

عرب میڈیا کے مطابق لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کا جنوبی علاقوں سے مرحلہ وار انخلاء اور لبنانی فوج کو وہاں تعینات کر کے حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنا ہے تاہم ابتدائی تعیناتی کے بعد عمل درآمد رک گیا ہے۔

حزب اللّٰہ ہتھیار چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے پہلے اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کر رہی ہے۔

لبنانی وزیرِاعظم نے مکمل اسرائیلی انخلاء، تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے واضح نظام الاوقات اور قابلِ اعتماد نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے متاثرین کی امداد، تعمیرِ نو، بے گھر افراد کی واپسی اور لبنانی فوج کے لیے مسلسل عالمی تعاون پر بھی زور دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید