آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ فلاں بندے کی عیادت کو جاناہے لہٰذا ساتھ کچھ پھل فروٹ بھی لے جانے چاہئیں۔سمجھ نہیں آتا کہ پھل اور فروٹ میں کیا فرق ہے؟اسی طرح بڑا عام سا جملہ ہے کہ شادی بیاہ کے معاملات دیکھ بھال کر طے کرنےچاہئیں۔اب بھلا شادی اور بیاہ میں کیا فرق ہے؟چلیں یہ تو ایک سائیڈ پر رکھ دیں اچھے خاصے بندے بھی ’چالس کو’چارلَس‘ بولتے ہیں۔کسی چیز کی سمجھ نہ آئے تو دماغ خود سے ہی طے کرلیتاہے کہ صحیح لفظ یوں ہوگا۔مجھے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس میں بھیجنے والے صاحب نے چھوٹا سا میسج بھی لکھا تھا کہ ’گل نوید صاحب ضرور تشریف لائیے گا۔‘چلیں جوپہلی دفعہ میرا نام سنتے ہیں انہیں مجبوراًیہ رعایت دی جاسکتی ہے کہ وہ ’گل نوریز کہہ لیں، گل خیز یاگل نخیز…لیکن کچھ اللہ لوک تو ایسے ہیں جوحد ہی کردیتے ہیں۔میں نے ایک دوست کے گھر لینڈ لائن پرفون کیا تو ان کی ملازمہ نے اٹھایا۔ پتا چلا کہ دوست گھر پر نہیں ہے۔میں نے اپنا نام بتا کر ملازمہ سے کہا کہ جب وہ آئے تو بتا دیجئے گالیکن مجھے خدشہ پیدا ہوا کہ ملازمہ کو میرا نام سمجھ بھی آیا ہوگا کہ نہیں۔احتیاطاً پوچھا کہ آپ کیا بتائیں گی؟ انہوں نے جھٹ سے کہا’میں کہوں گی گبرشاہ کا فون آیا تھا۔‘اسی طرح ایک محفل میں ایک صاحب ملے۔انہوں نے کافی دیر تک مجھے دلیلیں دے کرسمجھایا کہ تمہارا نام زنانہ ہے اسے فوراً تبدیل کرکے مردانہ کرلو۔میں نے وعدہ کیا کہ عنقریب شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور تعلیمی اسناد میں یہ تبدیلی کرنے کی کوشش کروں گا۔وہ خوش ہوگئے اور مزید بتانے لگے کہ نام کا شخصیت پر بڑا اثر ہوتاہے۔میں نے تابعداری سے سرہلایا اور جاتے جاتے پوچھا کہ آپ کا اسم ِگرامی؟ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولے’چوہدری شبنم‘۔
٭ ٭ ٭
یوٹیوب کھولیں اور اس میں فائیو ڈی سینما لکھ کر کوئی وڈیو سرچ کریں۔ ایسی ایسی وڈیوز دیکھنے کو ملیں گی کہ دماغ چکرا جائیگا۔ یعنی سینما میں فلم چل رہی ہے، طوفان آتا ہے اور سینما کی اسکرین سے نکل کر نہ صرف لوگوں کے سروں پر پہنچ جاتاہے بلکہ پانی کے چھینٹے بھی پڑتے ہیں۔اسی طرح فلم میں کوئی ٹرین آرہی ہے اور وہ اسکرین سے نکل کر سینما ہال میں داخل ہوجاتی ہے۔ یقیناََ یہ سچ نہیں ہوتا لیکن اسکا انداز ایسا ہے کہ دیکھنے والوں کو لگتاہے وہ اس منظر کا ایک حصہ ہیں۔یہی مستقبل کا سینما ہے۔ اب اگرکوئی فلم کے پوسٹر میں لکھے’رنگین سینما اسکوپ شرطیہ نیا پرنٹ‘ تو ایسا لگے گا 1980کی کوئی فلم ہے۔ سینما کو بچانا ہے تو ملٹی پلیکس سے بھی آگے نکل کر فائیو ڈی کی طرف جانا ہوگا۔میری اطلاعات کے مطابق ابھی تک پاکستان میں کوئی فائیو ڈی سینما نہیں۔اگر کوئی اس طرف انویسٹمنٹ کرے تو لوگوں کو دوبارہ سے سینما کی طرف اٹریکشن دلائی جاسکتی ہے۔ہر وہ چیز جو دسترس میں نہیں ہوتی اس کی اہمیت خودبخود بن جاتی ہے۔ اسی طرح جب فلمیں دیکھنے کا واحد سورس سینما یا وی سی آر ہوتا تھا تو زیادہ تر لوگ سینما کو ہی ترجیح دیتے تھے۔اب فلمیں موبائل پر دستیاب ہیں تو سینما جانے کا چارم ختم ہوگیا ہے۔اسے واپس لانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سینما میں کچھ ایسا ہو جو موبائل میں نہ ہو یا بہت کم لوگوں کو میسر ہو۔تاہم اس کیلئے فلمیں بھی فائیو ڈی کو مدنظر رکھ کر بنانی ہونگی ورنہ گنڈاسے والی فلمیں تو اب خود بنانیوالے بھی نہیں دیکھتے۔ایک صاحب بتا رہے تھے کہ لاہور کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں غالباً تین دہائیاں پہلے ایک ہالی وڈ ڈائریکٹر کو مدعو کیا گیا اور انہیں اپنا کمال دکھانے کیلئے پاکستانی فلم’میڈم باوری‘ دکھائی گئی پھر ڈائریکٹر صاحب کو فخریہ انداز میں اسٹیج پر بلایا گیا کہ وہ بھی رائے دیں۔ ڈائریکٹر صاحب نے بے بسی سے ہتھیلیاں ملتے ہوئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی اور بولے
Its quite different aproach
٭ ٭ ٭
پچھلے دو دنوں سے ایک محترمہ مجھے مسلسل ای میل پر رابطہ کر رہی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ این سی سی آئی یعنی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی میں اپنا کیس لے جانا چاہ رہی ہیں لیکن کوئی سفارش بھی چاہیے۔میں نے پوچھا کہ کیس کیا ہے؟ انہوں نے دُکھی دل سے بتایا کہ اُنکی ایک نامناسب وڈیو واٹس ایپ گروپس میں شیئر ہورہی ہے اور وہ اسکے خلاف قانونی چارہ جوئی چاہتی ہیں۔میرا دل دہل گیا۔ کسی عورت کیلئے اس سے زیادہ اذیت ناک بات کیا ہوسکتی ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ وڈیو کس نے بنائی تھی؟ کہنے لگیں کہ میں نے خود بنائی تھی کیونکہ میں سوشل میڈیا پر اپنی وڈیوز لگاتی رہتی ہوں۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ آپ نے خود اپنی نامناسب وڈیو کیسے شیئر کر دی؟ انہوں نے تفصیل بتائی کہ میں فیس بک پر لائیو تھی اور اپنے فینز سے بات کررہی تھی اسی دوران انجانے میں پتا نہیں چلا اور غلطی سے میری نامناسب وڈیو بھی آن ایئر چلی گئی۔ اُنکی بات سن کر میں نے سرکھجایا اور احترام سے پوچھا کہ میں ابھی تک نہیں سمجھ سکا کہ لائیو وڈیو بناتے ہوئے ایسی کیا ہولناک غلطی ہوئی۔ پریشان ہوکر بتانے لگیں کہ میں دوپہر کو موبائل کیمرے کے ذریعےفیس بک پر لائیو تھی۔میرے فینز مجھے پسندیدگی کے میسجز بھیج رہے تھے کہ اچانک میرا چھوٹا بچہ آیا اور اس نے موبائل کو پکڑنے کی کوشش کی جس پر میں نے اسے روکا اور موبائل دوبارہ سے اسٹینڈ پر لگایا۔ اسی دوران پتا نہیں کیسے میرا ہاتھ غلطی سے کسی بٹن پر لگ گیا اور مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب بیوٹی فلٹرآف ہوگیا اور میری اصل شکل نظر آنا شروع ہوگئی ہے۔ پلیز میری مدد کریں مجھے یہ وڈیو ہٹانی ہے۔