انصار عباسی
اسلام آباد :…باخبر ذرائع سے دی نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تیزی سے بدلتی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے بدھ کو ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں پی ٹی آئی کی زیر قیادت صوبائی حکومت کی کارکردگی اور مستقبل سے متعلق سنگین تحفظات بھی زیر غور آئیں گے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے جب خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر وفاقی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے، دہشت گردی بدستور ایک سنگین چیلنج بنی ہے اور صوبائی سیاسی انتظامیہ کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کو فراہم کیے جانے والے تعاون اور معاونت کی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں صوبے کی صورتحال اور خیبر پختونخوا حکومت سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ بدھ کے اجلاس میں کوئی ٹھوس فیصلہ ہوگا یا حتمی فیصلے سے قبل معاملے پر مزید غور کیا جائے گا۔ یہ امر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ یہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے، کیونکہ وفاقی سطح پر اس وقت جن تحفظات پر غور کیا جا رہا ہے وہ خاصی سنگین نوعیت کے ہیں۔ توقع ہے کہ اجلاس میں دیگر امور کے علاوہ بگڑتی امن عامہ کی صورتحال، دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت کے ردعمل، صوبائی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور بڑھتی محاذ آرائی پر مبنی سیاسی ماحول کا جائزہ لیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا حکومت پر اپنی تنقید میں بھی اعلانیہ شدت پیدا کی ہے۔ وفاقی وزراء نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے دہشت گردی کیخلاف عملی اقدامات نہیں کیے اور صوبائی پولیس کو بھی خاطر خواہ معاونت فراہم نہیں کی۔ جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا جا چکا ہے، وفاقی حکام صوبے کی صورتحال کے حوالے سے مختلف سیاسی اور آئینی آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 232؍ پر وسیع تر تناظر میں بحث کی جا رہی ہے۔ یہ آرٹیکل پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو لاحق سنگین خطرات، بشمول ایسے داخلی خلفشار سے متعلق ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو، ہنگامی حالت کے نفاذ کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ آئین میں آرٹیکل 234؍ بھی موجود ہے، جو ایسے حالات سے متعلق ہے جب کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔