کراچی (افضل ندیم ڈوگر) کراچی میں سیف سٹی منصوبے کا پہلا مرحلہ (فیز 1) مکمل ہے جبکہ فیز 2 پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں ریڈ زون اور ایئرپورٹ کوریڈور (شارع فیصل) پر 300 پول سائٹس پر 1200 جدید ترین کیمرے نصب کئے جا چکے ہیں، جن میں چہرہ شناخت کرنے اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھنے کی صلاحیت شامل ہیں۔ فیز ون انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے مکمل منسلک ہے. ڈی جی سیف سٹی سرفراز نواز نے انٹرویو میں بتایا کہ رواں سال سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 734 مشکوک گاڑیاں اور 69 مفرور اور اشتہاری ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا گیا اس دورانیے میں 480 افراد کو چہرہ شناخت پر روکا گیا جبکہ 520 گاڑیوں کی مشکوک نمبر پلیٹ چیک کی گئیں جبکہ ڈکیتی قتل رہزنی اور دیگر جرائم کی 618 وارداتوں میں کراچی پولیس کو مدد اور شواہد فراہم کئے۔ انہوں نے بتایا کہ فیز ون سیٹ اپ میں فی الوقت صرف 12 گاڑیاں اور 150 پولیس اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جو 1300 کیمروں کے فی منٹ جاری ہونے والے سیکڑوں الرٹس کیلئے ناکافی ہیں۔ فیز 2 یعنی دوسرے مرحلہ میں شہر کے مختلف اضلاع میں 2,300 سے زائد مزید اسمارٹ کیمرے، ڈرونز، پبلک پینک بٹنز اور نگرانی کے ٹاورز نصب کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اپریل 2026ء میں 9.98 ارب روپے کی لاگت سے فیز 2 کی منظوری دی تھی، اس مرحلے پر عملی کام جاری ہے۔