کراچی (جنگ نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ صرف اشرافیہ کیلئے بجلی پیٹرول فری ہے ،عوام کیلئے کچھ نہیں ، تنخواہ دار طبقے سے 7سو ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کیے، وہ کراچی میں الخدمت کراچی کے تحت ایکسپو سینٹر میں کراچی یوتھ سمٹ سے خصوصی خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، سی ای او الخدمت کراچی نوید علی بیگ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کراچی یوتھ سمٹ آمد پر شاندار استقبال کیا گیا،اس موقع پر زبردست آتش بازی بھی کی گئی اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے،حافظ نعیم الرحمن نے کراچی یوتھ سمٹ کے شرکاء کے ہمراہ کھڑے ہوکر کورس میں قومی ترانہ بھی پڑھا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ حکومت کی پرفارمنس اور گورننس کو دیکھتے ہیں تو پریشانی ہوتی ہے، ملک میں ایک طبقہ اشرافیہ ہے جسے تمام تر سہولتیں میسر ہیں اور دوسرا طبقہ عوام کا ہے، دونوں طبقات کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ تنخواہ دار طبقہ نے 700 ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کیے ہیں۔گیس اور بجلی کے بلوں میں ٹیکس وصول کیا جاتا ہے،فی لیٹر پیٹرول میں 136 روپے بھتہ ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، دوسری طرف جاگیردار، وڈیرے، خوانین نے ایک سال میں 12 ارب روپے ادا کیے ہیں، طبقہ اشرافیہ کے لیے بجلی، پیٹرول فری ہے اس کا اثر ان لوگوں پر نہیں پڑتا۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز جنہیں پرانا جہاز اچھا نہیں لگا اور11 ارب روپے کا نیا جہاز خریدلیا۔ 607 بلٹ پروف گاڑیوں کا ٹینڈر پاس کیا گیاہے، یہ وہ طبقہ ہے جو حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں سمیت تمام پارٹیوں میں ملے گا،ایف بی آر جس کا کام ٹیکس وصول کرنا ہے اس ادارے میں 1300 ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ بدقسمتی سے پارٹیوں میں جاگیردار اور وڈیرے موجود ہیں، آئل مافیا، بنک مافیا ملک کو تباہ و برباد کررہے ہیں، آئی پی پیز مافیا میں تمام حکومتی افراد موجود ہیں جو ان کے جلسے کرواتے ہیں اسی لیے مافیا کے خلاف بات کی جاتی، جماعت اسلامی واحد پارٹی ہے جو ان مافیاز سے آزاد ہے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی یوتھ سمٹ کے انعقاد کرنے پر الخدمت کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،یہ کراچی کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جس میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی اور یہ نوجوان نئے عزم اور امید کے ساتھ اپنے گھروں میں جائیں گے۔ کراچی کی ساڑھے تین کروڑ آبادی میں سوا دو کروڑ یوتھ ہیں۔ شہر کے بے شمار مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ طرز حکمرانی کا ہے۔ شہر میں کوئی چیز ایسی نہیں جو درست حالت میں ہو۔ شہر کے نوجوانوں کے لیے تعلیم بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ صرف کراچی کا نہیں بلکہ پورے صوبہ کا مسئلہ ہے۔ کراچی میں پاکستان کے قیام سے آج تک صرف کراچی یونیورسٹی بنائی گئی جسے 75 سال ہوگئے ہیں، یہ وہ طرز حکمرانی ہے جس سے نوجوانوں کو تعلیم سے دور کردیا ہے۔ بھاری بھرکم فیس سے نوجوان تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔صوبے میں بد قسمتی سے پورے 2 کروڑ 62 لاکھ بچے ایسے ہیں جو تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں،جن میں 78لاکھ بچے سندھ کے ہیں،الخدمت این جی او کے تحت لاکھوں کی تعداد میں فری آئی ٹی کورسز کرواسکتی ہے تو حکومت و ریاست کیوں نہیں کرسکتی۔ نوجوان ظلم کے نظام کو بدلنے کی جدو جہد میں جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ نوید علی بیگ نے کہا کہ یوتھ سمٹ کا مطلب یہی ہے کہ مایوسی کے دور میں مثبت سرگرمیاں انجام دی جاسکیں۔