پروفیسر خالد اقبال جیلانی
اسلام کے بنیادی اور لازمی اصولوں میں سے ایک اوّلین اور بنیادی اصول یہ ہے کہ مسلمان امّتِ واحدہ یعنی ایک امت اور آپس میں بھائی بھائی ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ’’بےشک تم امّتِ واحدہ یعنی سب ایک ہی امت کے افراد ہو‘‘(سورۂ انبیاء 112)
اس اتحاد ویکجہتی کے ماتحت ایمان والے، امت مسلمہ کے سب افراد آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔(سورۂ حجرات 10 ) ان احکام قرآنی پر رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ’’سونے پر سہاگہ‘‘ کی مانند ہے کہ ’’مومن مومن کا بھائی ہے، بالکل جسدِ واحد کی طرح ‘‘( حدیث مبارکہ)
قرآن و حدیث میں تمام مسلمانوں کو ایک امت، بھائی بھائی جسدِ واحد کہا گیا ہے، لیکن ہم نے اسلام کے اس اولین، بنیادی اور اصولی حکم کو یکسر فراموش کردیا اور پوری امت کو مسلکی عصبیت،لسانی تعصب اور فرقہ وارانہ گروہوں میں تقسیم کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت امت مسلمہ، مسلمان پوری دنیا میں ذلت ، رسوائی ، شکست و ہزیمت تباہی و خوں ریزی کا شکار اور مغلوب ہیں۔
مسلمانوں کو حکم تو یہی دیا گیا تھا کہ وہ مرکزیت، جامعیت اور وحدت کو کمزور نہ ہونے دیں، مگر اس کے باوجود آج امت کا شیرازہ منتشر ہے۔ اس وقت اتحاد، عالم اسلام اور مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ ہے اور تما م ضرورتوں و ترجیحات پر برتری اور اہمیت رکھتا ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ اسلامی ممالک، مسلمان حکمران اور امت مسلمہ عالم اسلام کے اتحاد کی اہمیت و ضرورت کو نہیں سمجھ رہے ،حالانکہ موجودہ دور میں مسلمانوں کا اتحاد، عالم اسلام کی وحدت متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا نا گزیر اور ناقابل انکار ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو فرقہ وارانہ تنگ نظری، گروہی تعصب اور قومی و نسلی امتیازات کو فراموش اور پس پشت ڈال کر فوری طور پر رو بہ عمل لائی جائے اور پوری امت تمام مسلمان ممالک اور عالم اسلام کو متحد کیا جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سامراجی ملکوں اور طاغوتی قوتوں کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں اس وقت مسلمانوں کو متحد ہونے سے روکنے کا موثر ترین سبب ہیں۔ لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان حکمران امت مسلمہ کی بقا کی فکر کریں۔ بلاشبہ، امت مسلمہ کی شکست و زوال کا سبب اتحاد امت کی جانب مسلمانوں کی عدم پیش رفت ہماری پسماندگی اور فرقہ وارانہ اختلافات ہیں۔
آج امت متحد ہو کر عالم اسلام کے ایک پرچم تلے اکٹھے ہو جائے اور اپنے اختلافات پر بے سود وقت ضائع کرنے کے بجائے تھوڑا سا وقت امت کی فلاح و بہبود اور اتحاد کے لئے نکالے تو آج بھی ہم شکست آمیز اور ہزیمت زدہ ماحول سے نکل سکتے ہیں۔ قرآن کریم مسلسل مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ تم ایک ملت اور ایک ہی دین کے لئے منتخب کئے گئے ہو۔
خالق کائنات نے تمہارے لئے وہی دین مقر ر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا اور (جو بذریعہ وحی) ہم نے تمہاری طرف بھیج دیا ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے حضرات ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو دیا تھا کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔‘‘
افسوس یہ ہے کہ مسلمان اتنی ہدایتوں کے باوجود حصوں فرقوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔ جس کا سبب یہی ہے کہ ہم مسلمان تو ضرور ہیں، لیکن صحیح معنوں میں اسلام کو سمجھے ہی نہیں، اگر سمجھ گئے ہوتے تو اس کے نافذ کردہ قوانین پر عمل پیرا ضرور ہوتے اور اس طرح فرقوں میں نہ بٹتےاور اس کے قوانین سے ہرگز ہرگز سرتابی نہ کرتے، اس لئے کہ جب اللہ کے رسول ﷺنے ایمان والوں کو رشتۂ اخوت میں باندھ دیا تھا تو پھر اس سے فرار کیسا۔
’’اتحاد ‘‘ ایسی چیز ہے کہ نہ صرف عالم انسانیت بلکہ اگر اسے پوری کائنات سے چھین لیا جائے تو اس وسیع کائنات کا نظام درہم برہم ہوکر رہ جائے گا۔ آپس میں اختلاف پیدا کرنا گویا ایک شخص کا زہر کو کھا لینے کی مانند ہے، یہ جاننے کے بعد کہ زہر اعضاء کو پارہ پارہ کردیتا ہے اور زندگی کوموت کی آغوش میں پہنچا دیتا ہے۔
اسی طرح مسلمان امت ِواحدہ یا اتحادِ امت سے واقف نہیں یا پھر واقف ہونے کے باوجود اسلام دشمن عناصر کی دسیسہ کاریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور قرآن و سنت کے پیغام سے سرتابی اور غفلت برتتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان انتشار و افتراق کو ہوا دینے لگتے ہیں، تقویٰ اور اخوت دو ایسے اصول ہیں جن کی پیروی میں امتِ مسلمہ کی نجات مضمر ہے۔