ڈاکٹر نعمان نعیم
گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا کہ ایک فلیٹ سے ڈاکٹر، ان کی بیوی اور تین بیٹیوں کی لاشیں ملیں، خاندان سے ناراضی، قطع تعلق کی وجہ سے اکیلا رہنا اور پھر تدفین کے وقت بھی کسی عزیز کا نہ پہنچنا ایک المیہ ہے۔ لاشیں ملنے کے بعد دونوں جانب کے خاندان سے کوئی بھی فرد تدفین کے لیے نہیں آیا۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق صلہ رحمی (رشتوں کو جوڑنا) واجب اور قطع رحمی (رشتے داروں سے تعلق توڑنا) سخت گناہِ کبیرہ اور حرام ہے۔ اگر رشتے داروں سے اختلافات یا رنجشیں پیدا بھی ہو جائیں، تب بھی شریعت قطع تعلق یا بول چال بند کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق قطع رحمی کرنے والا شخص اللہ کی رحمت اور مغفرت کے خاص فیضان سے محروم رہ جاتا ہے۔
یہ المناک واقعہ اس بات کی عملی عکاسی کرتا ہے کہ خاندانی بائیکاٹ اور رشتوں سے دوری انسان کو کس قدر تنہائی اور بے بسی سے دوچار کر دیتی ہے کہ وقتِ آخر پر اپنوں کا سہارا بھی میسر نہیں رہتا۔ یہ واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انا اور غصے کی بنیاد پر ایک یا دونوں جانب سے اپنوں سے رشتے توڑنا اور قطع کلامی کرنا دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان کا باعث بنتا ہے۔ تلخیوں کو مٹا کر رشتوں کو جوڑے رکھنا ہی دین اور انسانیت کا تقاضا ہے۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ اپنے رشتوں کو ترو تازہ رکھو، خواہ سلام ہی کے ذریعے۔‘‘ (صحیح بخاری) حضرت ابنِ عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’صلۂ رحمی کرنے والا وہ نہیں، جو احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرے،بلکہ دراصل صلۂ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے، تو وہ صلۂ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری)
طبرانی کی روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’لوگو! میں تم کو دنیا اور آخرت کی بہترین عادات بتاتا ہوں۔ تم تعلقات قطع کرنے والے رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرتے رہو، جو تمہیں محروم رکھے، اسے دیتے رہو اور جو زیادتی کرے اسے معاف کرتے رہو۔‘‘ (طبرانی)۔ بلاشبہ، ایک نیک اور باشعور مسلمان ہر حال میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرتا ہے۔ وہ ان منفی اور تلخ باتوں پر قطعی توجّہ نہیں دیتا، جن سے اس کے تعلقات خراب ہوں۔
صلۂ رحمی اور رشتے داروں کے حقوق کے متعلق فرامینِ نبویﷺ پیش خدمت ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:رشتے داری رحمٰن کی ایک شاخ ہے، اللہ فرماتا ہے اے رشتے داری، جو تجھے جوڑے گا، میں اس سےجڑوں گا اور جو تجھے کاٹے گا، میں اس سے کٹ جاؤں گا۔ (صحیح بخاری)رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی سے محبت بڑھتی ہے، رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور عمر لمبی ہوتی ہے۔ (ترمذی)اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت پہلے اپنے رشتے داروں کا خیال کرو۔ (سنن ابوداؤد)
رشتے دار کو صدقہ دینا دہرا ثواب ہے، ایک صدقے کا، دوسرا صلۂ رحمی کا۔(ترمذی) خرچ کی ابتدا اپنے اہل و عیال سے کرو، پھر اپنے عزیز و اقارب پر خرچ کرو۔(نسائی)قطع تعلق کرنے والے رشتے داروں کو جوڑو، نہ دینے والوں کو دو، اور ظالم کے قصور معاف کردو۔ (ترغیب و ترہیب)رشتے داروں سے تعلق توڑنے اور ان سے بدسلوکی کرنے والا جنّت میں داخل نہیں ہوگا۔ (ترمذی)جورشتے دار تم سے پیٹھ پھر لیں، ان سے بھی صلۂ رحمی کرو۔ (طبرانی)
والدین، رشتے داروں، ہم سایوں، مساکین اور یتیموں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔ (صحیح بخاری)اس قوم پر اللہ کی رحمت نازل نہیں ہوتی، جس میں کوئی رشتے داروں سے قطع رحمی کرنے والا موجود ہو۔ (بیہقی) قطع رحمی کرنے والوں کو آخرت میں بھی سزا ملتی ہے اور دنیا میں بھی۔ (ابنِ ماجہ)انسانوں کے اعمال ہر جمعرات کو اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، مگر قطع رحمی کرنےوالے کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا۔ (مسند احمد)
جس کو یہ پسند ہو کہ اس کا رزق کشادہ اور عمر لمبی ہو، اسے چاہیے رشتے داروں سے حسنِ سلوک کرے۔ (صحیح بخاری)بدلہ چکانا صلۂ رحمی نہیں، صلۂ رحمی وہ ہے کہ جب اس سے رشتے داری توڑی جائے، تب بھی صلۂ رحمی کرے۔ (طبرانی) احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرنا صلۂ رحمی نہیں بلکہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے، تو وہ صلۂ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری)
بڑے بھائی کا اپنے چھوٹے بھائیوں پر ایسا حق ہے، جیسے باپ کا بیٹوں پر۔(ترمذی) جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرے۔ (صحیح بخاری) غریب رشتے داروں، قرابت داروں کا خیال رکھو، اللہ تمہارا خیال رکھے گا۔(مسندِ احمد) تین طرح کے لوگ جنّت میں نہیں جائیں گے، شرابی، قطع رحمی کرنے والا اور جادوگر۔(ابنِ حبّان)غیرمسلم رشتے داروں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی کرو۔ (صحیح بخاری)
ارشادِ ربانی ہے:’’اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین اور قرابت داروں سے بھلائی کرو۔(سورۃ النساء، 36)لہٰذا ہر قریبی عزیز پر واجب ہے کہ وہ اپنے قریبی رشتے دار سے صلہ رحمی کرے۔اس کی مالی اور اخلاقی لحاظ سے ہر ممکن مدد کرے۔ صلہ رحمی کی ترغیب کے لیے بہت سی احادیث ہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔(مسند الجامع)
بہت سے لوگ ہیں جو اس حق کو ضائع کر رہے ہیں اور کچھ اس میں کمی کرتے ہیں۔ آپ ایسے لوگ بھی دیکھیں گے جو قرابت داری کا مطلق خیال نہیں کرتے۔ان کی مالی یا اخلاقی لحاظ سے کسی طرح بھی مدد نہیں کرتے۔ کئی کئی مہینے گزر جاتے ہیں، وہ انہیں دیکھتے بھی نہیں۔ نہ ملنے جاتے ہیں نہ انہیں کوئی ہدایہ بھیجتے ہیں، بلکہ انہیں ہر لحاظ سے دکھ پہنچانے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔
کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر قریبی رشتے دار صلہ رحمی کریں تووہ بھی کرتے ہیں اور اگر وہ تعلقات توڑدیں تو یہ بھی توڑ دیتے ہیں۔ ایسا شخص حقیقتاً تعلق جوڑنے والا نہیں، بلکہ یہ تو ادلے کا بدلہ ہے۔ دراصل تعلق جوڑنے والا وہ ہے جو تعلق کو اللہ تعالیٰ کی خاطر جوڑے اور یہ پروا نہ کرے کہ دوسرا بھی اتنا تعلق جوڑتا ہے یا نہیں۔
صلہ رحمی میں صرف یہی بات نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے والے کو دنیا و آخرت میں اپنے احسان کا مستحق بنا کر اس پر رحمت فرماتا ہے،اس کے کام آسان بنا کر اس کی سختیاں دور کر دیتا ہے، بلکہ صلہ رحمی سے خاندان میں باہمی قربت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ افرادِ خاندان ایک دوسرے پر مہربان اور مصائب میں ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں ،جس کے نتیجے میں انہیں مسرت اور راحت حاصل ہوتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہمیں مالی حقوق کو کامل طریقے سے ادا کرنے اور اللہ کے راستے میں نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق نصیب فرمائے۔( آمین)