• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسمی تغیّرات کرہ ارض کے قدرتی نظام کا حصّہ ہیں۔ کبھی دنیا کے کسی خِطّے میں موسمِ سرما کی شِدّت زیادہ ہوتی ہے تو کبھی موسمِ گرما کی۔ کبھی کہیں بارشیں معمول سے زیادہ ہوجاتی ہیں تو کہیں خشک سالی کا راج ہوتا ہے۔ کبھی کہیں سیلاب آجاتے ہیں تو کسی خِطّے کے لوگ بارش کی دعا کرکرکے تھکے جارہے ہوتے ہیں۔

صدیوں سے کرہ ارض کاماحولیاتی نظام ایسے تغیّرات کا عادی تھا۔لیکن جب سے دنیا میں صنعتی انقلاب آیا ہےکرہ ارض کا ماحولیاتی نظام متاثر ہونا شروع ہوگیا۔پھر جوں جوں صنعتوں کی تعداد بڑھی اور ان سے خارج ہونے والے نقصان دہ گیسز سے بھرپور دھویں کی مقدار میں اضافہ ہوتا گیا ،توں توں ماحولیاتی نظام پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی شرح بھی بڑھتی گئی۔

ایل نینو اور لانینا

ماحولیاتی سائنس کے ماہرین اور ماہرینِ ارضیات مسلسل ماحولیات کے مسائل پر بہت کچھ کہہ اور لکھ رہے ہیں۔ کئی ماہ سےوہ ایل نینو کے بارے میں دنیا کو متنبہ کررہے ہیں۔ اب انہوں نے اس بارے میں انتباہات کو اعداد وشمار کے تناظر میں زیادہ سنجیدگی سے لینے پر زور دیا ہے۔

ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں لانینا کے دوران بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔ ہر دو سے سات برس کے درمیان دنیا کو دونوں کا سامنا ہوتا ہے۔ لانینا کا دورانیہ عموماً زیادہ ہوتا ہے۔

ایل نینو دراصل دنیا کے سب سے اہم قدرتی موسمیاتی مظاہر میں سے ایک ہے۔ یہ بہ ظاہر بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب سمندر کے درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا نام ہے، لیکن اس کے اثرات صرف بحرالکاہل تک محدود نہیں رہتے۔

سمندر کے درجۂ حرارت میں یہ تبدیلی فضا کی گردش، ہواؤں، جیٹ اسٹریم، بارش کے نظام اور سمندری طوفانوں کے راستوں کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے ایک حصے میں خشک سالی ہوسکتی ہے تو دوسرے حصے میں شدید بارشیں ہوسکتی ہیں اور سیلاب آسکتے ہیں۔

’’وہ‘‘ آنہیں رہا، آچکا ہے

اب ماہرینِ ماحولیات نے واضح طورپر بتادیا ہے کہ وہ کئی ماہ قبل جس ایل نینو کے بارے میں متنبہ کررہے تھے وہ اب سُپر ایل نینو میں تبدیل ہوچکا ہے اور پوری دنیا کے موسم پر اثر انداز ہورہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ایل نینو ہماری آنکھوں کے سامنے غیر معمولی حد تک شدت اختیار کر رہا ہے، کرۂ ارض ایسی غیر معمولی اور نامعلوم صورتِ حال سے دو چار ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور یہ حالات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

ایل نینو کرہ ارض کے لیے کوئی نیا مظہر نہیں بلکہ ہردو تا سات برس میں بننے والایہ موسمیاتی نظام وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندروں کے پانی کے درجۂ حرارت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ موجودہ ایل نینو پانی کی سطح کے درجۂ حرارت میں دو ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافے کے باعث جون میں بننا شروع ہوا تھا۔

اس نظام کی اوسطاً عمر ڈیڑھ سال یااٹھارہ ماہ ہوتی ہے اور اس کی شدّت کے مختلف درجے ہوتے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق یہ نظام اب طاقت ور شکل اختیار کر کےسُپر ایل نینو میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اندازوں کے مطابق آئندہ برس کے آغاز میں یہ نظام اپنی طاقت کے عروج پر ہو گا اور خدشہ ہے کہ یہ اب تک کے سب سے طاقت ورایل نینو میں سے ایک ہوگا۔

امریکی محکمۂ موسمیات کے مطابق اس سُپر ایل نینو کے تحت ایک طرف مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا میں انتہائی شدید بارشیں ہو سکتی ہیں تو دوسری طرف اس کی وجہ سے جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا میں شدید خشک سالی کا خدشہ ہے۔ پوری دنیا کے درجۂ حرارت میں اسی ایل نینو کے باعث اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

ہمیں کیا پریشانی ہے؟

پاکستان جیسے ممالک میں آج بھی بعض افراد سوال کرتے ہیں کہ ماحولیاتی مسائل سے ہمارا کیا لینا دینا اور ایل نینو وغیرہ سے ہمیں کیا پریشانی ہے؟انہیں شاید معلوم ہی نہیں کہ ایل نینو کی وجہ سے سے کہیں زیادہ بارشیں ہوتی ہیں تو کہیں سیلاب آتے ہیں اور کہیں خشک سالی ہوجاتی ہے۔ اس کے ضمنی اثرات میں فصلوں کا متاثر ہونا شامل ہوتا ہے۔

ماہرینِ موسمیات کے مطابق ایل نینو عموماً جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا میں خشک موسم کا باعث بنتا ہے۔ بھارت اور پاکستان میں اس سال ایل نینو کی وجہ سے موسمِ گرما کے مون سون کی بارشیں توقعات سے کم رہی ہیں۔ بھارتی محکمۂ موسمیات کے مطابق یکم جون سے 9 ستمبر کے دوران ہونے والی بارشیں بھارت کی اوسط بارشوں سے15فی صد کم ر ہیں۔

ایل نینو ہی کو اس سال انڈونیشیا میں خشک موسم اور جنگل کی آگ کا ذمے دار سمجھا جا رہا ہے۔ جولائی کے اواخر تک انڈونیشیا میں جنگل کی آگ کے پانچ ہزار سے زیادہ واقعات ریکارڈ ہوئے ۔ آسٹریلیا میں بھی جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اوسط سے کم بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے اوردرجۂ حرارت میں اضافے اور اس کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

اُدہرورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو 2027میں ختم ہوتے ہوتے کم از کم49ملین مزید افراد کو بھوک کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یعنی45ملکوں میں بھوک سے متاثر ہافراد کی مجموعی تعداد225ملین سے بڑھ کر 274 ملین ہو سکتی ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ مکئی، چاول اوربارش پر انحصار کرنے والی دیگر فصلیں خطرے میں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے مطابق مکئی، چاول اور بارش پر منحصر دیگر فصلوں کو سب سے زیادہ خطرات ایل نینو سے لاحق ہیں۔خشک حالات جنوبی افریقا سے لے کر جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا تک فصلوں کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔

ہمیں فکرمند ہونے کی ضرورت اس لیے ہے کہ ہمارے ملک کا زرعی، آبی اور اقتصادی نظام موسمِ گرما کی بارشوں، دریاؤں، برف اور گلیشیئرز سے حاصل ہونے والے پانی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور ایل نینو کا نظام عام طور پر پورے کرہ ارض کو گرم کرتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی پیش گوئی ہے کہ ستمبر سے نومبر کے دوران دنیا میں تقریباً ہر جگہ درجۂ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا،چھیاسی فی صد امکان ہے کہ اب سے 2030تک کوئی سال ریکارڈ پر گرم ترین سال کے طور پر 2024ء کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ ماہرینِ موسمیات کے اندازوں کے مطابق اگلا سال یعنی 2027 ریکارڈ توڑ گرم سال ثابت ہوسکتا ہے۔

سیلاب، خشک سالی اور بہت زیادہ گرمی کے خطرات 

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے اثرات کے بارے میں یہ صرف اندازے ہیں اور ایل نینو کا اثر ہر سال مختلف ہوسکتا ہے، کیوں کہ ضروری نہیں کہ کوئی بھی دو ایل نینو ایک جیسے ہوں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے نے فروری 2027 تک ایل نینو کی زیادہ شدت برقرار رہنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

ادارے کے انتباہ کے مطابق رواں سال زمین کو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی دو دھاری تلوار کا سامنا ہے، زہریلی یا گرین ہاؤس کیسز کے اخراج کے باعث موسمیاتی تبدیلیاں زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ کر رہی ہیں، اس کے ساتھ موسمیاتی رجحان، ایل نینو کا بھی آغاز ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پہلے سے شدید گرمی کا سامنا کرنے والی دنیا کا درجہ حرارت مزید بڑھ جائے گا اورگرمی کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہلاکتوں کا باعث بنے گا۔

عالمی موسمیاتی ادارے، ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینو آنے والے مہینوں میں زیادہ شدید ہو جائے گا اور اس کی شدت فروری2027تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔یہ نظام رواں برس کے آخر تک عروج پر ہوگا اور اس کے اثرات 2027میں بھی محسوس ہوں گے۔ آنے والے مہینوں میں اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ جائے گی جس سے درجہ حرارت اور بارشوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے جس کی وجہ سےدنیا بھر کے انسانوں کو سیلاب، خشک سالی اور بہت زیادہ گرمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یادرہے کہ ایل نینو کی آخری لہر2023میں دیکھنے میں آئی تھی جس کے نتیجے میں 2024 دنیا کی تاریخ کا گرم ترین سال قرار پایا تھا۔اس بار ایل نینو کی شدت رواں سال کے آخر تک عروج پر ہوگی، مگر سمندروں سے خارج ہونے والی حرارت سست روی سے فضا میں پہنچے گی اور آنے والے سال کا عالمی درجہ حرارت بڑھا دے گی۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق ایل نینو کے اثرات کو ہم دنیا کے مختلف خطوں میں سیلاب اور خشک سالی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں اور موسمیاتی رجحان کی شدت بڑھنے پر ان اثرات کی شدت بھی بڑھے گی۔ خیال رہے کہ ایل نینو کے دوران عالمی اوسط درجہ حرارت میں 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایل نینو کے اثرات پورے عالمی موسمیاتی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ برصغیر میں مون سون کے دوران بارشیں کم ہونے لگتی ہیں، البتہ خشک سالی سے متاثرہ افریقی خطوں میں زیادہ بارشیں ہو سکتی ہیں۔ ایل نینو سے سمندری طوفانوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے جس سے امریکا، بھارت، بنگلا دیش، جاپان اور کوریا جیسے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایم او نے ستمبر سے نومبر کے دوران معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی ہے اور ایسا لگ بھگ دنیا کے ہر خطے میں ہوگا۔

امریکی قومی ادارہ برائے بحری و فضائی تحقیق کے مطابق سمندری درجۂ حرارت معمول سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے جس سے موجودہ ایل نینو انتہائی طاقت ور سطح پر پہنچ گیا ہے۔ جون 2026ء میں شروع ہونے والے ایل نینو کے 2027ء کے آغاز میں عروج پر پہنچنے کا امکان ہے اور مارچ سے مئی 2027ء تک یہ برقرار رہ سکتا ہے۔

سُپر ایل نینو کے باعث مشرقی افریقا، جنوبی امریکا اور امریکا کے جنوبی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشوں اور جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا میں خشک سالی کا امکان ہے۔ مشرقی افریقا میں شدید بارش سے سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

انسانی جانوں اور معیشت کو لاحق خطرات 

موجودہ سُپر ایل نینو دنیا بھر میں غیر معمولی گرمی کا باعث بن رہا ہے جس کے نتیجے میں فروری 2027ء تک دنیا بھر میں گرمی سے ہونے والی اموات میں تقریباً 4 لاکھ 51 ہزار کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

عالمی تحقیقاتی ادارے کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق سُپر ایل نینو کے باعث معمول کے مقابلے میں انتہائی گرم دنوں کی تعداد 44 فی صد تک بڑھنے کا امکان ہے۔ محققین نے 24,378 علاقوں کے درجۂ حرارت، مقامی موسمی حالات اور آبادی کی حساسیت کا جائزہ لے کر اموات کا تخمینہ لگایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سپر ال نینو کے سب سے زیادہ اثرات ترقی پذیر ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اموات کا 4 لاکھ51ہزار کا تخمینہ قطعی نہیں۔

بعض ماہرین نے اسے محتاط اندازہ قرار دیا ہے اوربعض نے مختلف خِطّوں میں اموات کی تقسیم پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں شدید گرمی اور دیگر موسمی اثرات سے انسانی جانوں، معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔

ماہرینِ ماحولیات کے بہ قول اگر موجودہ سُپر ایل نینو آئندہ سال تک جاری رہا تو بھارت اور پاکستان سمیت دیگر شمالی علاقوں میں بھی شدید گرمی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے ایل نینو کے اثرات کو مزید شدید کر دیا ہے اور شدید گرمی کے علاوہ بارشوں کے معمول میں تبدیلی، خشک سالی، سیلاب، جنگلات میں آگ لگنے اور زرعی پیداوار کے متاثر ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

اس صورت حال نے ماہرینِ موسمیات اور عالمی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نئی موسمیاتی پیش گوئیاں اور کئی موسمی ماڈلز یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ 97-98 کے ایل نینو سے عالمی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا تھا، لیکن اس مرتبہ حالات اس سے بھی زیادہ خطرناک سمت میں جارہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں بحر الکاہل میں دیو ہیکل موجیں بنتی ہیں جو 30 میٹر( 90 فیٹ) تک بلند ہوسکتی ہیں اور یہ عمل دنیا بھر میں شدید گرمی، تباہ کن بارشوں، خشک سالی، سیلاب اور خوراک کے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سُپر ایل نینو وہ مرحلہ ہوتا ہے جب بحرالکاہل کے مخصوص حصوں میں سمندری درجہ حرارت معمول سے کم از کم 2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوجائے۔

گزشتہ ڈیڑھ صدی میں ایسے چند ہی واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 1877-78، 1982-83، 1997-98اور 2015-16 کے سُپر ایل نینو شامل ہیں۔ سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ اگراس کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والا سُپر ایل نینو تاریخ کے طاقت ور ترین موسمی واقعات میں شامل ہوسکتا ہے۔