معاملہ جائیداد کا تھا۔ دودھ والے نے بتایا کہ وہ دو بھائی ہیں۔والد کی وفات کے بعد بڑے بھائی نے مکان پر قبضہ کرلیا ہے حالانکہ والد صاحب اپنی زندگی میں ہی یہ مکان چھوٹے بھائی کے نام کر گئے تھے۔ میں نے اُسے مشورہ دیا کہ عدالت میں اپنا کیس پیش کرے اُمید ہے کہ اُسے جلد اپنا حق مل جائے گا۔ اس نے بے چارگی سے کہا کہ عدالتی فیصلے میں تو بہت وقت لگ جائے گا۔میں نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس مکان کے کاغذات موجودہیں۔ سرکھجا کر بولا کہ اصل میں اس گھر کے کاغذات ہیں ہی نہیں۔
میں نے حیرت سے وجہ پوچھی تو بتانے لگا کہ یہ گھر والد صاحب کے ایک دوست کا تھا جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ شائد دوست نے بھی کسی مرحوم کا گھر ہتھیارکھا تھا۔ دوست فوت ہوا تو والد صاحب یہاں آباد ہوگئے اور یو ں گھر کی ملکیت کی کوئی قانونی دستاویز نہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ پھر یہ گھر تمہیں کیسے مل سکتاہے؟تم یا تمہارا بھائی دونوں ہی اس کی ملکیت کا حق نہیں رکھتے۔ پرجوش ہوکر بولا’سرجی! میرے پاس گھر کی ملکیت کا ایسا ثبوت ہے کہ آپ سنیں گے تو کہہ اٹھیں گے کہ واقعی یہ گھر تو تمہیں ہی ملنا چاہیے‘۔میں نے تجسس سے پوچھا کیا ثبوت ہے؟ اِدھر اُدھر دیکھ کر بولاچار دن پہلے والد مرحوم میرے خواب میں آئے تھے۔ انہوں نے مجھے دو ٹوک انداز میں کہا’نذیر یہ گھر صرف تمہارا ہے‘۔
٭ ٭ ٭
فیس بک پر ایک صاحب نے میسج کیا کہ میں غریبوں کی مدد کرنا چاہتاہوں اس کیلئے آپ کا تعاون درکار ہے۔ پوچھا کہ آ پ کون ہیں او رکیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ میری سائیکل کے پنکچروں کی دکان ہے اور میں بہت قلیل آمدنی میں گزارا کرتاہوں۔ سوال کیا کہ آپ تو خود مدد کے حق دار معلوم ہوتے ہیں آپ کیسے غریبوں کی مدد کریں گے؟ انہوں نے کچھ ناراضی کا اظہار کیا پھر زہر بھرے لہجے میں بولے کہ آپ جیسے سیٹھ، امیر، دولت مند، بنگلوں میں رہنے والے ہمیشہ غریبوں کو جوتے کی نوک پر لکھتے ہیں۔یہ سن کر مجھے دلی خوشی نصیب ہوئی کہ کسی نے تو مجھے سیٹھ کا خطاب دیا۔پھر ان سے پوچھا کہ کتنی رقم سے آپ کا ’کاروبار‘ چل جائے گا۔انہوں نے دوبارہ سے لہجہ نرم کیا اورفرمایا کہ فی الوقت تو پچاس لاکھ درکارہیں لیکن دس لاکھ سے کام کا آغاز کیا جاسکتاہے۔ میں نے انہیں تسلی دی اور کہا کہ آپ کا جذبہ بہت قابل ستائش ہے کسی دن لاہور تشریف لائیے اور ملاقات کا شرف بخشئے۔ یہ سن کر جواب آیا’نیکی کا کام ہے، اتنے تردد کی کیا ضرورت ہے دس لاکھ روپے ایزی پیسہ کردیں میں آپ کو ہر چیز کی وڈیو بنا کر بھیج دوں گا‘۔
میں نے عرض کی کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ غریبوں کی مدد والا یہ کام اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کے ساتھ مل کرکریں۔یہ سنتے ہی وہ شدیدغصے میں آگئے، پانچ چھ جدید ماڈل کی ہائبرڈ گالیاں عنایت فرمائیں اور بولے’میری دعا ہے کہ تمہاری لینڈ کروزر تباہ ہوجائے، فارم ہاؤس میں آگ لگ جائے، مرسڈیز چوری ہوجائے، بینک میں تمہارے جتنے بھی لاکرز ہیں سب زلزلے کی نذر ہوجائیں،اورسوئس اکاؤنٹ میں پڑا ہوا تمہارا اربوں روپیہ مٹی کا ڈھیر بن جائے۔‘ میں نے بے اختیار صدق ِ دل سے آمین کہا۔کچھ بددُعائیں اتنی اچھی ہوتی ہیں کہ انہیں سنتے ہوئے بھی نشہ سا ہونے لگتاہے۔یہ بندے کو ٹینشن سے نکال کر ڈوپامین ریلیز کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
٭ ٭ ٭
ماضی کی ایک اسٹیج اداکارہ نے طوفانی انداز میں سوشل میڈیا پر الزامات کی بوچھاڑ کر رکھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ افتخار ٹھاکر، گوشی خان، نسیم وکی، خالد عباس ڈار، ناصر چنیوٹی، ہنی البیلا، قیصر پیا وغیرہ نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔سب اپنے اپنے حال میں مست ہیں اورکوئی اُن کا خیال نہیں کر رہا۔ اس شور میں انہوں نے جو منہ میں آیا بول دیا اور بہترین طریقے سے اپنا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ صرف وہ ہیں جو سچی ہیں، ہمدرد ہیں اور درد ِ دل رکھتی ہیں۔انہوں نے اسٹیج اداکاروں کی منافقت کا بھی ذکر کیا لیکن ظاہری بات ہے اس منافقت میں وہ خود شامل نہیں البتہ باقی سارے منافق ہیں۔