اسلام آباد (عاصم جاوید) پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مشترکہ ٹیم اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات سنجیدہ کوششوں کے باوجود کسی ٹھوس پیشرفت کے بغیر اختتام پذیر ہو گئے،عمران تک رسائی بنیادی رکاوٹ رہی، حکومت مذاکرات کے تعطل کی وجوہات واضح کرے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا مؤقف سیاسی ضد نہیں، عمران خان سے مشاورت جمہوری عمل کا حصہ ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق مذاکرات میں بنیادی تعطل عمران خان تک فوری رسائی کے مطالبے پر رہا، پارٹی نے موقف اختیار کیا کہ قومی اور سیاسی اہمیت کے معاملات پر پارٹی قیادت کو اپنے چیئرمین سے مشاورت کا حق حاصل ہونا چاہئے، مذاکراتی عمل میں پیشرفت کے لئے اس نے یہ پیشکش بھی کی کہ دیگر مطالبات کو ایک طرف رکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت عمران خان سے ملاقات اور مشاورت کی اجازت دے، تاہم حکومت نے اس مطالبے کو مجوزہ معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ سیاسی قیادت سے مشاورت جمہوری عمل کا بنیادی تقاضا ہے، جس طرح دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین پارٹی پالیسی اور فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح پی ٹی آئی کو بھی اہم سیاسی اور قومی معاملات پر اپنے بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کا حق حاصل ہے، موجودہ حساس صورتحال میں ایسی مشاورت محدود کئے جانے سے بامعنی سیاسی رابطے اور مذاکرات کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی اور دہشت گردی کی صورتحال بھی مذاکرات کا اہم موضوع رہی، حکومت نے وفاقی اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور آپریشنز کے لئے صوبائی حکومت کی غیر مشروط حمایت جبکہ ضم شدہ اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی اقدامات کی حمایت طلب کی۔ پی ٹی آئی نے دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ، شہریوں کا تحفظ اور دیرپا امن کا قیام قومی ترجیح ہونی چاہئے۔