• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا میں علیحدہ سیکورٹی پالیسی کی کوئی گنجائش نہیں، تحریک انصاف کو وفاقی حکومت کا واضح پیغام

اسلام آباد:(انصار عباسی)…وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا اور خیبر پختونخوا حکومت وفاق سے الگ کوئی سکیورٹی پالیسی اختیار نہیں کر سکتی۔ باخبر ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت کو دوٹوک الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کو وفاقی حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بیرونی جارحیت کا نتیجہ سمجھتی ہے، جبکہ پاکستان کیخلاف حملوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا جائزہ یہ ہے کہ غیر ملکی عناصر ملک کے اندر دہشت گردی کی حمایت میں ملوث ہیں، جن میں بھارت کو ایک مرکزی کردار کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیع تر خطرے کے پیش نظر اسرائیل کے کردار پر بھی بات کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایسی بیرونی جارحیت کیخلاف پاکستان کا ردعمل تشکیل دینا وفاق کی ذمہ داری ہے۔ پالیسی وفاقی حکومت کی جانب سے عسکری اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے ساتھ وضع کی جائے گی اور صوبوں سے توقع ہے کہ وہ اس کی مکمل حمایت اور اس پر عمل درآمد کریں گے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا کہ جب ملک کو ایسے حالات کا سامنا ہو جسے بیرونی جارحیت قرار دیا جا رہا ہو تو مختلف صوبوں کیلئے مختلف سکیورٹی پالیسیاں تشکیل نہیں دی جا سکتیں۔ یہ پیغام وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی بالخصوص سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے صوبائی حکومت کے طریقۂ کار اور مرکز کے ساتھ اس کی سیاسی محاذ آرائی کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت کو بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں مسلسل دہشت گرد حملوں اور وسیع تر سکیورٹی خطرے کے پس منظر میں موجودہ حالات وفاقی حکومت یا سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کیلئے ناقابل قبول ہیں۔ لہٰذا، صوبائی سطح پر ایسا کوئی طریقۂ کار جو قومی سکیورٹی پالیسی سے متصادم ہو، قابلِ قبول نہیں۔ ذرائع نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو توقع ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر عمل درآمد کیلئے سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ پی ٹی آئی کی قیادت تک یہ پیغام پہنچانے کا مقصد یہ واضح کرنا بھی تھا کہ مرکز اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات کو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ریاست کے ردعمل کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ذرائع کے مطابق، وفاق کا موقف ہے کہ جب بیرونی جارحیت کے خطرے کیخلاف قومی سکیورٹی پالیسی وضع کر دی جائے تو تمام صوبائی حکومتوں کو اپنی الگ پالیسیاں وضع کرنے یا اختیار کرنے کے بجائے اس کی حمایت کرنا ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے اقدامات سے ثابت کرے کہ وہ قومی سکیورٹی پالیسی کی مکمل حامی ہے اور دہشت گردی کیخلاف کارروائی میں سکیورٹی کے نظام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ذرائع نے واضح کیا کہ مرکز کے نقطۂ نظر سے اب یہ معاملہ محض اسلام آباد اور پشاور کے درمیان سیاسی اختلاف کا نہیں رہا۔ اسے قومی سلامتی کا معاملہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں پالیسی اور حکمتِ عملی کے حوالے سے حتمی اختیار وفاق کے پاس رہے گا۔

اہم خبریں سے مزید