پتا نہیں کیوں جو بندہ بھی اچھی باتیں کرتا ہے اُس پر عجیب سا شک کیوں ہونے لگتاہے۔معاشرے میں دو نمبری اور فراڈ اتنا بڑھ چکا ہے کہ خوبصورت باتوں سے کسی گڑبڑ کی بو آنے لگتی ہے۔ایسا اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں کی محنت شامل ہے۔ایک وقت تھا جب دروازے پر بھکاری آتا تھا تو خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا۔پھر پتا چلا کہ بھکاری تو اچھے خاصے پیسے کمالیتے ہیں لیکن ظاہر نہیں کرتے۔بھکاری مشکوک ہوگئے۔کوئی بھوکا سڑک پرفریاد لگا تاتھا تو کوئی نہ کوئی اسے کھانا کھلا دیتا تھا، پھر یوں ہونے لگا کہ آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلانے کی آفرکرتے تھے تو وہ بہانے بہانے سے یہ کہہ دیتا کہ میرے بچے بھی بھوکے ہیں لہٰذا گھر میں بھی کچھ لے کر جانا ہے۔دھیرے دھیرے طے ہونے لگا کہ یہ بھی فراڈ ہے۔انعامی رقم نکلنے کی خوشخبری، پولیس کی کال، بینک کی کال، امیر بیوہ کی ای میل، پلاٹوں کی فائلیں، سستے گھروں کی نوید، تعویز گنڈے، پیربابے سب کی اکثریت دھوکا ثابت ہونے لگی اور لوگوں حد سے زیادہ محتاط ہوگئے۔سادہ لوح لوگ اب بھی ٹھگے جاتے ہیں لیکن آگاہی اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ عقل مند لوگ اے آئی فراڈ سے بچنے کے مینوئل طریقے ایجاد کرنے لگے ہیں۔
پڑوسی ملک میں ایک صاحب کو ان کی بیٹی کی کال آئی کہ میں مارکیٹ میں ہوں اور پرس گم ہوگیا ہے پلیز مجھے اتنے پیسے اکاؤنٹ میں بھیج دیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ کال ان کی بیٹی نہیں کر رہی تھی بلکہ کسی نے ان کی بیٹی کا اکاؤنٹ ہیک کرکے اسکی آواز کی نقل اے آئی سے بنا لی تھی اور اب یہی آواز پیسے مانگ رہی تھی۔ باپ نے کچھ لمحے سوچا پھر پوچھا’بیٹی کوڈ بتاؤ‘۔ دوسری طرف سے کچھ دیر خاموشی رہی پھر آواز آئی’پاپا میں بہت رش میں ہوں پلیز جلدی پیسے بھیج دیں‘۔ اِنہوں نے پھر کوڈ پوچھا اور دوسری طرف سے فون بند ہوگیا۔ کیا اچھا طریقہ ہے۔ ہم گھر میں اگر کوئی ایک کوڈ طے کرلیں تو کسی بھی مالی معاملات میں ایک دوسرے کی کال آنے پر یہ خطرہ نہیں ہوگا کہ یہ اے آئی کال ہے۔کوڈ پوچھیں۔ فراڈ ہوا تو بچت ہوجائے گی۔ویسے کوڈ نہ بھی طے کیا ہو تو پوچھ لینا چاہیے۔ اگر کوئی بتادے تو سمجھ جائیں کہ یہ بھی فراڈ ہے۔
٭ ٭ ٭
مہنگائی ہربندے پر اثرڈال رہی ہے اسکے باوجود کچھ لوگوں کو لگتاہے کہ اُن کے علاوہ سارے خوشحال ہیں۔اگرآپ نے اپنی غربت کا رونانہیں رویا، خاموشی سے روکھی سوکھی کھا کرعزت کے مارے چپ بیٹھے ہیں، ہنس بھی لیتے ہیں، کپڑے بھی صاف ستھرے پہن رہے ہیں تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ آپ بہت خوشحال ہیں اور جان بوجھ کر اپنی دولت ضرورت مندوں کو نہیں دے رہے۔یہاں وہی بدحال ہے جو علی الاعلان چوک میں اپنی بدحالی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔سفید پوشی اب بھرم نہیں چالاکی شمار ہوتی ہے۔اگر آپ معاشی طورپر مجبور ہونے کے باوجود جبر کرکے اپنے حالات کسی کو نہیں بتاتے تو لوگ آپ سے پیسہ مانگیں گے اور نہ دینے کی صورت میں جگہ جگہ ذلیل کریں گے۔
یہ جو اُدھار مانگنے والے ہوتے ہیں انہیں لگتاہے کہ جس سے اُدھار مانگا جارہاہے اُسے ہر حال میں جیب خالی کرنی چاہیے۔یہ صرف اپنا رونا روتے ہیں دوسرا اپنی مجبوری بتائے تو ایسی طنزیہ نظروں سے دیکھتے ہیں گویا بہت بڑا جھوٹ پکڑلیا ہو۔ فی زمانہ ظاہری حالت بہتر رکھنا لوگوں کی مجبوری ہے کیونکہ جیسے ہی آپ کا لباس، آپ کا انداز، طور اطوار مالی بحران کی گواہی دیں گے لوگ آپ سے کترانا شروع کردیں گے۔ سڑک پر گاڑی چلانے والا ہر بندہ امیر نہیں ہوتا۔ ان میں زیادہ تر وہ ہیں جو ہزار روپے کا پٹرول ڈلوا کر قطرہ قطرہ استعمال کرتے ہیں، جو کپڑے صبح پہنتے ہیں رات کو احتیاط سے ہینگر میں لٹکا کر رکھ دیتے ہیں کہ کسی طرح دو دن چل جائیں۔یہ سیکنڈ ہینڈ جوتے خرید کر انہیں اچھی طرح صاف کرکے پہنتے ہیں تاکہ اندر کی حالت نہ ظاہر ہونے پائے۔لیکن جو یہ نہیں کرتے انہیں ایسا لگتاہے کہ دنیا کا ہر بندہ موجیں کر رہا ہے اور اُن کا خیال رکھنے والاکوئی بھی نہیں۔
٭ ٭ ٭
اگر آپ کہانی سے بھرپور افسانے پڑھنا چاہتے ہیں تو سید شبیر احمد صاحب کی کتاب’ساتویں تحریر‘ ضرور پڑھیں۔اس کتاب میں آپ کو افسانے کے نام پربے ربط تحریر پڑھنے کو نہیں ملے گی بلکہ میرادعویٰ ہے کہ ہر کہانی ایسے جکڑے گی کہ کئی دن تک آ پ اس کے حصار سے نکل نہیں پائیں گے۔ میری بدقسمتی کہ میں شبیر احمد صاحب کو اس سے پہلے نہیں پڑھ پایا لیکن ان کی کتاب کے ذریعے میں کہانی کی ایک ایسی دنیاسے متعارف ہوا ہوں جس میں جادوئی تاثیر ہے۔سچ پوچھئے تو کافی عرصے سے افسانے پڑھنے چھوڑ رکھے تھے۔ خال خال کوئی کتاب یا اچھاافسانہ دل کو چھو جاتا تھا ۔ ایسے میں مجھے جہلم میں شبیر احمد صاحب کی کتاب ملی تو شروع کا افسانہ پڑھ کر ہی میں نے جلدی سے کتاب بند کردی۔ڈر تھا کہ کہیں اپنی ازلی عادت کی بنا پر بیٹھے بیٹھے ہی سارے افسانے نہ پڑھ جاؤں۔یہ گھونٹ گھونٹ پڑھنے والے افسانے ہیں۔
کہانی کا وہ بیانیہ انداز جس میں زیرتحریر علامت پورے مفہوم کے ساتھ موجود ہوتی ہے اس کتاب کا اعجاز ہے۔ کاش شبیر احمد صاحب ڈرامہ یا شارٹ فلمز بھی لکھیں۔ ان کی تحریر میں کردار ہیں، سین ہیں، ڈرامائی انداز ہے، مکالمہ ہے اور وہ انداز ہے جو رکنے پر مجبور کردیتاہے۔ مجھے دُکھ ہے کہ آج یہ کتاب میں نے ختم کرلی ہے۔اب یا کوئی اس جیسی کتاب ڈھونڈوں گا یا اِسے پھر سے پڑھوں گا اور مجھے یقین ہے دوبارہ پڑھنے پر یہ نیا لطف دے گی بقول احمد ندیم قاسمی’جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم ِ نو دیکھا ہے؍مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا۔‘