• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: میرا بھائی مجھ سے ناراض ہے، اس کی چار بیٹیاں ہیں، اس کے پاس اپنی ذاتی زمین اور اپنا گھر ہے، لیکن ان سے کوئی قابلِ ذکر آمدنی نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس کا کوئی اور مناسب ذریعۂ معاش ہے، اس کی اہلیہ اور بیٹیاں ہم سب کے ساتھ خوش اخلاقی سے رہتی ہیں، اور میرے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات ہیں، ان کے معاشی حالات بھی اچھے نہیں ہیں۔ کیا میں اپنے بھائی، اس کی بیٹیوں اور بھابھی کی مالی مدد صدقہ کی رقم سے کر سکتی ہوں؟ کیا ایسی صورت میں انہیں صدقہ دینا شرعاً جائز ہے؟ براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔

جواب: آپ اپنے بھائی کو راضی کرنے کی کوشش کریں اور صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنی طرف سے صلۂ رحمی اور حسنِ سلوک کا معاملہ جاری رکھیں، حسبِ موقع سلام دعا، خیر خیریت دریافت کرنے اور دیگر مناسب ذرائع سے تعلق قائم رکھنے کی کوشش کریں، اپنی طرف سے قطع تعلق نہ کریں۔

رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے: صلۂ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں صلہ رحمی کرے، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے‘‘۔ لہٰذا بھائی ناراض ہوں تب بھی آپ کو اپنی طرف سے تعلق ختم نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ اپنے بھائی یا ان کی اولاد کی مالی مدد کرنا چاہیں تو نفلی صدقہ انہیں دے سکتی ہیں، خواہ وہ مستحق زکوٰۃ ہوں یا نہ ہوں۔

البتہ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ اسی وقت دیے جاسکتے ہیں جب بھائی یا ان کے اہلِ خانہ میں سے جس فرد کو زکوٰۃ دینی ہو، وہ مستحقِ زکوٰۃ ہو، یعنی اس کی ملکیت میں ضروریاتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال یا سامان نہ ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، اور وہ سید/ ہاشمی بھی نہ ہو، ایسی صورت میں اسے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ دینا جائز ہے، بلکہ رشتے دار ہونے کی وجہ سے اس میں دہرا اجر ملے گا، ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا۔

اقراء سے مزید