• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: کن صورتوں میں کھڑے ہوکر پانی پینا جائز ہے؟

جواب: کھڑے ہو کر پانی پینا تو بہر صورت جائز ہے، البتہ عمومی احوال میں کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہِ تنزیہی یعنی خلافِ اولیٰ ہے۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے متعلق دونوں طرح کی احادیث مروی ہیں، بعض میں کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، اور بعض سے کھڑے ہو کر پانی پینے کی اجازت معلوم ہوتی ہے، فقہائے کرام نے ان تمام احادیث کو مدِّ نظر رکھ کر یہ حکم اخذ کیا ہے کہ اگر کوئی مجبوری ہو (مثلاً رش یا کیچڑ کی وجہ سے بیٹھ کر پانی پینے کے لیے جگہ میسر نہ ہو یا بیٹھنے میں تکلیف ہو یا کوئی اور عذر ہو) تو کھڑے ہوکر پانی پینا بلا کراہت جائز ہے، لیکن اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہِ تنریہی اور خلافِ ادب ہے۔

شارحینِ حدیث نے کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت سے متعلق احادیث کی شرح میں اس ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے کا مستقل معمول بنالینا طبّی اعتبار سے مضر ہوسکتا ہے، گویا خلافِ مروّت ہونے کے ساتھ صحت کے لیے بھی یہ نقصان دہ ہوسکتا ہے، اس اعتبار سے نبی کریم ﷺ کا اس سے منع فرمانا خیر خواہی کے طور پر ہوگا، جسے اصطلاح میں "نہی ارشادی" کہتے ہیں، یعنی اس حکم میں راہنمائی اور خیر خواہی کا پہلو مدنظر ہے، لہٰذا بیٹھ کر پانی پینا ہی مستحب اور باعثِ خیر و اجر ہے، لیکن اگر کسی نے بغیر مجبوری کے کھڑے ہوکر پانی پی لیا، تب بھی وہ گناہ گار نہیں ہو گا اور نہ ہی اُس کی پکڑ ہوگی، بلکہ صرف بیٹھ کر پانی پینے کا استحباب اور اس کا ثواب اسے حاصل نہیں ہوگا۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ مذکورہ حکم آبِ زم زم اور وضو کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ پانی کا ہے، آبِ زم زم اور وضو کے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے۔

(عمدة القاری، کتاب الحج، باب ماجاء فی زمزم، ج:9، ص:278،279، ط: داراحیاء التراث العربي،فتاویٰ ہندیہ ،کتاب الکراهیة، الباب الحادي عشر فی الکراهة فی الأکل و مایتصل به، ج:5 ص:341 ط: دارالفکر،فتاویٰ شامی ،کتاب الحظر و الإباحة، ج:6، ص:337 ط: دارالفکر)

اقراء سے مزید