اسلام آباد (تنویر ہاشمی) پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ایک ارب 21کروڑ ڈالر کی پانچویں قسط کےلیے ا سٹاف سطح کا معاہدہ طے پا گیا ہے، اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین پیٹرول پر سبسڈی اسکیم فوری طور پر مرحلہ وار ختم کرنے اور سماجی وصحت کے شعبوں کے لیے اخراجات کو بہتر بنانے اور سرکاری ملکیتی اداروں کی گورننس کی بہتری پر اتفاق ہوگیا، آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو بروقت توانائی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور صارفین کا تحفظ یقینی، گورننس و انسداد بدعنوانی کے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو متنبہ کیا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تیل کی غیر مستحکم قیمتیں، عالمی مالیاتی حالات میں سختی اور تجارتی رکاوٹوں سے خطرات برقرار ہیں، دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو جاری کی جانے والی مجموعی رقم 5ارب70کروڑ ڈالر ہو جائے گی، آئی ایم ایف پروگرام سے ملک میں معاشی استحکام آیا اور اصلاحات کا عمل تیز ہوا ہوا ،حکومت نے تیل بحران بہتر انداز میں قابو کیا، اقتصادی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے ساتھ سٹاف سطح کا معاہدہ ہوگیا ہے، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ایک ارب 21روڑ ڈالر فراہم ہونگےجس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو جاری کی جانے والی مجموعی رقم 5ارب70کروڑ ڈالر ہو جائے گی ، پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین 7ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے چوتھے جائزہ مذاکرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے آر ایس ایف پروگرام کیلئے تیسرے جائزے کیلئے مذاکرات اسلام آبادمیں ہوئے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین پیٹرول پر سبسڈی اسکیم فوری طور پر مرحلہ وار ختم کرنے اور سماجی وصحت کے شعبوں کے لیے اخراجات کو بہتربنانے اور سرکاری ملکیتی اداروں کی گورننس کی بہتری پر اتفاق ہوگیا ہے،پاکستان نے معاشی اہداف کےحصول کے لیے بہترین کوششیں کیں، پاکستان میں آئی ایم ایف کے پروگرام سے معاشی استحکام آیا، پاکستان میں اصلاحات کا عمل تیز تر ہوا۔