29ستمبر کو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی ترسیل کی کمپنی طیبہ الیکٹرک پر ڈرون حملہ ہوا۔اس سے پہلے 16 ستمبر کو سعودی عرب کے دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کے قریب ایک ڈرون کو فضا میں ہی مار گرایا تھا۔ ان ڈرون حملوں کا الزام حوثی "انصار اللہ" پر لگایا گیا جبکہ" انصار اللہ" نے اس کی سختی سے تردید کی ۔ 2017 میں "انصار اللہ" جو سعودی عرب سے جنگ لڑ رہے تھے نے ایک بیلیسٹک میزائل طائف شہر کے قریب "کنگ فہد ایئر بیس" پر داغا تھا جس کے حوالے سے الزام لگا کہ یہ مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش تھی۔ بعد ازاں کسی ذریعے سے اس الزام کی تصدیق نہ ہو سکی۔ اُدھر 'انصار اللہ" عشقِ رسول میں ڈوبے، پوری دنیائے اسلام میں 12 ربیع الاول کا سب سے بڑا فقید المثال اجتماع کر کے نبیؐ سے اظہارِ محبت و عقیدت کرتے ہیں، وہ کیسے ایسی گستاخی کر سکتے ہیں؟ ایسا سوچ کر بھی ہر مسلمان کی روح کانپ جاتی ہے۔اب فلائی دبئی کی پرواز کی سعودی عرب طبوق میں ہنگامی لینڈنگ سے صورتحال ایک نیا رخ اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ سعودی عرب حوثیوں سے 2015 سے حالتِ جنگ میں ہے لہٰذا جانبین کی آپس میں بدگمانیاں پیدا ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ البتہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات جو ان کے لیے اپنی جان، مال، والدین اور بچوں تک سے بڑھ کرہیں پر مبینہ حملوں سے شدید ہیجان پیدا ہو رہا ہے۔ اُدھر ایران جو امریکہ اور اسرائیل سے اپنی بقاء کی جنگ لڑرہا ہے کو حوثیوں سے تعاون کرنے کی بنیاد پر تنہا کیا جا رہا ہے۔ ڈھائی ماہ پہلے تک تمام عالمِ اسلام ایران کے ساتھ تھا ۔جو کھل کر ساتھ نہیں دے سکتے تھے وہ دل ہی دل میں ایرانی حکمت ِعملی، استقامت اور بہادری پر نازاں تھے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے عوام اور مظلوموں کے لئے، امریکہ اور اسرائیل کو ایران سے شکست اور پے درپے ناکامی کا سامنا باعث ِطمانیت تھا۔ حالیہ واقعہ پر حوثیوں کو ایرانی پراکسی کہہ کر حملوں کا بالواسطہ ایران کو ذمہ دار ٹہرایا جا رہا ہے۔امریکہ اور اسرائیل میدان ِجنگ میں ایران سے ہار کر اب مکر و فریب سے بازی پلٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
30ستمبر کو فلائی دبئی کا جہاز دبئی سے تل ابیب روانہ ہوا جس میں 182 مسافروں میں سے 166 صیہونی تھے۔ ڈھائی گھنٹے کی پرواز کے بعد اچانک جہاز ڈولنے اور نیچے کی طرف گرنے لگا۔ کاک پٹ سے لڑائی جھگڑے کی آوازیں سن کر قریب بیٹھی خاتون نے شور مچایا۔ کاک پٹ کا دروازہ اندر سے زخمی پائلٹ نے کھولا تو مسافروں نے حملہ آور پائلٹ جس نے چاقو سے دوسرے پائلٹ کو زخمی کر دیا تھا کو قابو کیا۔ ایک اسرائیلی پلمبر نے جہاز کو کنٹرول کر کے اسے سنبھالا جبکہ دو پائلٹ جو اتفاقیہ ساتھ سفر کر رہے تھے نے کنٹرول سنبھال کر لینڈنگ کرائی۔زخمی پائلٹ ہندوستانی اور حملہ آور پائلٹ عمانی شہری بتایا جا رہا ہے۔ زخمی پائلٹ کے مطابق حملہ آور جہاز گرانا چاہتا تھا اور جہاز کے آلات توڑ رہا تھا۔چند روز قبل "شیطن یاہو" نے ایک بڑا واقعہ رونما ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم صدر ٹرمپ نے واقعے کے فوراً بعد کہا کہ مجھے اسرائیلی وزیر اعظم نے ساری "کہانی" سنائی ہے لیکن انہیں علم نہیں کہ یہ سچ بھی ہے یا نہیں۔ البتہ اگلے روز موصوف نے اس واقعے کا تعلق بِنا شواہد ایران سے جوڑ کر کہا اگر ایسا ہوا تو ایران کو بہت سخت سزا ملے گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر حملہ آور جہاز ہی گرانا چاہتا تھا تو آلات کیوں توڑ رہا تھا؟ اسرائیل وہی پائلٹ جا سکتا ہے جس کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرتی ہو تو عمانی پائلٹ کو کیوں ڈیوٹی دی گئی؟ حسنِ اتفاق دیکھیے کہ دو پائلٹ جو اسی طرز کے جہاز اڑاتے تھے ہم سفر تھے۔ مزید حسنِ اتفاق ہے کہ ایک اسرائیلی پلمبر جس نے مبینہ طور پر کسی ٹی وی شو میں دیکھا تھا کہ جہاز کیسے اڑایا جاتا ہےنے انتہائی چابک دستی سے بروقت جہاز سنبھال کر اُسےحادثے سے بچا لیا ۔ جہاز 30 سیکنڈ میں 16 ہزار فٹ نیچے گر چکا تھاجبکہ زمین سے ٹکرانے میں 18 ہزار فٹ یعنی محض تیس سیکنڈ باقی تھے۔ مزید حیران کن بات ہے کہ کاک پٹ میں لڑائی کے بعد پلمبر نے کیسے چندسکینڈ میں جہاز سیدھا کیا اور دوسرے پائلٹ سے نشت بھی تبدیل کی۔نئے پائلٹ نے جہاز کو اُردن کی حدود میں داخل ہونے کے باوجوداُردن میں لینڈ کرانے یا تل ابیب لے جانے کے بجائے یوٹرن لے کر سعودی عرب کے شہر طبوق میں ہنگامی لینڈنگ کرائی۔
یہ واقعہ، اس سے پہلے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر ڈرون حملے وغیرہ سب فالس فلیگ تھے۔ کسی بھی جرم کی تفتیش کے لیے دیکھا جاتا ہے کہ اس کا فائدہ کس کو پہنچے گا۔ اس کلیے پہ اگر معاملے کو پرکھا جائے تو مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر، باہمی بدگمانی پیدا کر کے اصل فائدہ ابلیسی مثلث( امریکہ، اسرائیل اور انڈیا )کو ہوتا نظر آتا ہے۔پاکستان ،سعودیہ اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر حیران کن طور پر امریکہ اور اسرائیل کے عدم اعتراض سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاطر کا ارادہ بالآخرتینوں ممالک کو "انصار اللہ" اور ایران سے لڑانا تھا۔حالانکہ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے وسعت پسندانہ اقدامات کے پیشِ نظر کیا گیا تھا۔ یوں جوہری پاکستان کو اتنے محاذوں پر الجھایا جانا تھا کہ اس کی بقاء و سلامتی ہی داؤ پر لگ جاتی۔ ایک جانب ہمارا ازلی دشمن ہندوستان، دوسری جانب ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ افغانستان اور ان ہی کی سازشوں سےپیدا کردہ بلوچستان کی سرحد پر ایران سے کشیدگی،آزاد کشمیر میں بِلا جواز شورش ہمیں حد درجہ کمزور کر دیتی۔ اس پر ایک خلیجی ریاست تو پہلے ہی ہم سے ہاتھ کھینچ کر دور ہو چکی ہے۔اُدھر سعودی عرب اور "انصار اللہ" آپسی لڑائی میں کمزور سے کمزور تر اور مزید پھنستے چلے جائیں گے۔ترکیہ جس کے خلاف "شیطن یاہو" پہلے ہی ایران کے بعد دو دو ہاتھ کرنے کا عندیہ دے چکا ہے اسے بھی یمن، شام،کردستان اور دیگر محاذوں پرالجھایا جائے گا۔ہمیں دماغ کے ساتھ اپنے قلب کی نظر استعمال کرنا ہوگی تاکہ دشمنوں کی چالوں کو سمجھ پائیں۔" کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں"۔ سورۃ الحج۔22:46۔ اس ابلیسی گروہ نے شطرنج کی ایسی بساط بچھائی ہے کہ سب اس کی چال میں پھنس چکے ہیں۔ یاد رہے کہ ان کے چلائے ہر تیر کا نشانہ، ہر چال اور ہر تان جوہری پاکستان پر آکر ٹوٹتی ہے۔انہیں ادراک ہے کہ ہماری جوہری صلاحیت نہ صرف ہمارے لئے بلکہ پورے عالمِ اسلام کی محافظ،اس کی بقاء و سلامتی کی ضامن ہے ماشاءاللہ !
؎بے چارہ پیادہ تو ہے اک مہرۂ نا چیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ!