تہران/واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق 27 کمپنیوں‘ 6 افراد اور 22 بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کردیں جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعمیری مذاکرات جاری ہیں‘ امریکا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔روسی صدرولادیمیرپیوٹن نے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے مذاکرات کے دوران ایران کو جنگ کے خاتمے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران چند روزمیں امریکی تجویز کا جواب دے گاجبکہ ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ تہران امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردارہوگا نہ ہی اپنے یورینیم کے ذخائر کسی کے حوالے کرے گا۔ صدر پیزشکیان نے واضح کیا کہ ایران دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں اوراقتصادی جنگ میں بھی امریکا کو ہرائے گا‘ایران کے وزیر خزانہ سید علی مدنی زادہ نے کہا ہے کہ مہنگائی اور اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں‘ادھر یورپی یونین نے کہاہے کہ وہ بحیرہ احمر میں بحری مشن کے لیے مزید جہازبھیجنے گا۔تفصیلات کےمطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہاہے کہ اگرچہ ایران معاشی اور فوجی طور پر بہت بری حالت میں ہے اور بحری ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی لیکن ہم وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ ایران کے ساتھ تعمیری مذاکرات کر رہے ہیںتاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔