اسلام آباد (عاصم جاوید) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران اچانک دہشت گردی کا ایجنڈا میز پر رکھ دیا، ہم تو بانی چیئرمین سے ملاقات اور ان کے مسائل کے حل کے معاملے پر مذاکرات کیلئے گئے تھے، مذاکراتی کمیٹی میں دہشتگردی کا معاملہ سامنے آنے پر بیرسٹر گوہر نے ناراضی کا اظہار کیا، حکومت نے مذاکرات سے پہلے دہشتگردی کے معاملے پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا۔ صرف ایک لفظ ”متفقہ“ پر اختلاف ہوا، مولانا فضل الرحمن مذاکرات کیلئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں تو باہمی مشاورت سے فیصلہ ہو گا۔ گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں دہشت گردی کا معاملہ شامل ہونے کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔