کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں معروف بینکار حسین لوائی، طحہ رضا سمیت 13 ملزمان کی بریت کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے اپیلیں واپس لینے پر نمٹا دیں۔ تفصیلات کے مطابق سماعت کے موقع پر ملزمان کے وکلا فاروق ایچ نائیک، شوکت حیات اور دیگر وکلاء پیش ہوئے اس دوران وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیلیں واپس لینے کی استدعا کی گئی جس پر عدالت عالیہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیوں ایسا کیا ہوا کہ اپیلیں واپس لے رہے ہیں؟ جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں اتنا ہی کہا گیا ہے کہ اپیلیں واپس لینی ہیں۔ حکومتی وکیل کے جواب پر جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے وفاقی حکومت کے وکیل کی استدعا منظور کرلی اور اپیلیں واپس لینے پر کیس نمٹا دیا۔ واضح رہے کہ بیکنگ کورٹ نے 17 ستمبر 2026 کو حسین لوائی سمیت 13 افراد کو بری کردیا تھا۔ بعد ازاں بینکنگ کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ حسین لوائی اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں شریک ملزم تھے۔ پراسکیوشن کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان دور حکومت میں بینکنگ کورٹ اور نیب کورٹ میں کیسز زیر سماعت رہے۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں ایف آئی اے نے انکوائری شروع کی تھی۔ ایف آئی اے کے مطابق ڈیفنس کے علاقے خیابان تنظیم میں طارق سلطان کے نام پر بینک اکاؤنٹ قائم کیا گیا تھا جس میں مشتبہ ٹرانزیکشن کی نشاندہی ہوئی تھی کہ طارق سلطان کے اکاؤنٹ میں چار ارب پچاس کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ ایف آئی اے کی جانب سے محمد علی ابڑو کیس کی تفتیشی افسر مقرر کیے گئے تھے۔ تفتیش کے دوران تفتیش اکاؤنٹ ہولڈر طارق سلطان نے اکاؤنٹ کی اونر شپ سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ خیابان تنظیم برانچ میں اس کا کوئی اکائونٹ نہیں ہے اور بینک اکاؤنٹ جعلی ثابت ہوا تھا۔دریں اثنا کیس کے شریک ملزمان سے وابستہ ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ بینکنگ کورٹ میں کافی عرصے یہ کیس چلا اور اس میں تفصیلی جرح کے ساتھ ساتھ ثبوت اور دلائل بھی پیش کیے گئے چونکہ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے اور بینکنگ کورٹ نے تمام حقائق سامنے انے پر ملزمان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور انہیں بری کر دیا تھا۔