• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ادیب اور غیرتِ ایمانی: سچا اور بڑا ادیب اپنے ضمیر کی آواز سے غافل نہیں ہوتا

کسی بھی فلسفے یا نظریے سے قطعِ نظر، اتنی بات تو ادب کے عام طالبِ علم بھی جانتے ہیں کہ ادب و شعر کی تخلیق سے وابستہ لوگ اپنا کام ضمیر کی روشنی میں کرتے ہیں، یہی آواز انھیں راستہ دکھاتی ہے، ان کے اندر اظہار کی ضرورت، جرأت پیدا کرتی اور سمت کا تعین کرتی ہے۔ جینوئن تخلیق کار اس آواز سے روگردانی نہیں کرتا، کربھی نہیں سکتا۔

لکھنا ادیب کے لیے جینے یا سانس لینے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس لیے ضمیر کی روشنی یا اندر کی آواز اس کے لیے غیرتِ ایمانی کا درجہ رکھتی ہے۔ چاہے یہ آواز اسے کوہِ ندا کی صدا بن کر سوئے دار ہی کیوں لے جائے۔ اب یہاں مثالیں تو دو چار چھوڑ، درجنوں دی جاسکتی ہیں، لیکن ہم صرف ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں، جعفر زٹلی، وہی کھرا شاعر جسے اسکی تغزل گوئی ہاتھی کے پائوں تلے روندے جانے کی منزل تک لے گئی۔

ہمارے یہاں مزاحیہ شعر کو صرف ہنسنے ہنسانے کی شے سمجھا جاتا ہے، لیکن یہی شے جعفر زٹلی کو موت کے منہ میں جھونک آئی۔ آخر ایسا اس کے شعر میں کیا تھا؟ اندر کی آواز۔ وہ آواز جو روشنی بن کر پھوٹتی اور شرارے کی طرح لپکتی ہے۔ ایمان کا اظہار خواہ مذہب کے دائرے میں ہو یا ادب کے، اپنی ایک قیمت طلب کرتا ہے۔

کسی تہذیب یا کسی عصر کے ادب کا مطالعہ کیجیے اور اس کی تاریخ پر نگاہ ڈالیے تو باآسانی اندازہ ہو جائے گا کہ سچا اور بڑا ادیب نہ تو اپنے ضمیر کی آواز سے غافل ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی قیمت ادا کرنے سے کتراتا ہے۔ چوں کہ تخلیقِ ادب و شعر اس کے لیے جینے کا عمل ہے، سو وہ یہ کام کرتے ہوئے کسی مصلحت یا مفاد کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ دنیا، اس کی رنگینی اور آسائشیں اسے کتنا ہی لبھاتی ہوں، ضمیر کی قیمت پر وہ انھیں دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔

مبادا یہاں کسی ذہن سے یہ خیال گزرے کہ ہمارے ادب کی تاریخ میں ایسے لوگ بھی تو ہیں جنھوں نے اپنے زمانے میں دنیا کے لطف و انبساط سے ہاتھ نہیں کھینچا اور تاریخِ ادب بھی انھیں فراموش نہیں کرتی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ادب و شعر آسائشِ دنیا سے دست برداری کا مطالبہ نہیں کرتے، البتہ اپنی آواز کی قیمت پر دنیا کا سودا شعر و ادب کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتا۔

اب اگر آپ کو تاریخِ ادب میں ایسے نام ملتے ہیں جنھوں نے دنیا سے بھی استفادہ کیا اور ادب میں بھی اپنا نام اور کام بچا لے گئے تو یہ وہ لوگ ہیں جنھیں دنیا الگ سے میسر آئی، ادب کے ذریعے یا اس کی قیمت پر نہیں۔ اس کے باوجود اگر ایسے کچھ لوگ ہوں جو ادب ہی کو ذریعہ بنا کر دنیا کی منزل تک پہنچنا چاہیں تو ان کی بابت ادب اور اس کی تاریخ کا اصول یہ ہے کہ وقت کی چھلنی چھان کر ڈال دیتی ہے۔

مثال کے لیے اپنے عہد ہی کو دیکھ لیجیے۔ کیسے کیسے نامی گرامی گزرے ہیں کہ کل تک ایوانِ ادب کی چکا چوند سمجھے جاتے تھے اور آج وقت کے کوڑے دان میں پڑے ہیں۔ جاے عبرت ہے، تماشا نہیں ہے۔

دوسری بات یہ کہ اپنے زمانے کی شہرت اور نام وری کا لطف لینے اور مال و آسائش سمیٹنے والے ان لوگوں کو اگر کبھی قریب سے دیکھنے کا موقع مل جائے تو آدمی کانوں کو ہاتھ ہی تو لگا لے۔ کیسا سناٹا ان کے اندر چنگھاڑتا ہے، کیسی بے اعتباری ان کے درونِ جاں سائیں سائیں کرتی پھرتی ہے۔

انعامات کی گنتی اور تقریبات کی بھرمار میں کوئی شے ایسی نہیں کہ جس سے جی کو قرار آئے اور اپنے لکھے ہوئے حرف کی توقیر و تاثیر کا اعتبار میسر ہو۔ یہ دولت تو انھی کو ملتی ہے جنھوں نے جاہ و منصب اور شہرت و نام کی طلب سے آزاد ہو کر تخلیقی کام کیا۔ اس منزلِ عشق میں مر مر کے جیا جاتا ہے۔

اب آئیے اس سوال پر جس سے گفتگو کا آغاز ہوا تھا، کیا ہمارے ادیبوں میں غیرتِ ایمانی پائی جاتی ہے۔ جواب ہے، جی ہاں بالکل پائی جاتی ہے۔ تاہم اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ آج ہمارے یہاں لکھنے لکھانے والوں میں اس کا تناسب بہت کم نظر آتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ادب کا کام غیرتِ ایمانی کے بغیر چل جاتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ وہ تو ناگزیر ہے۔ اصل میں ہر زمانے کا ایک فتنہ ہوتا ہے۔ ہمارے زمانے کا فتنہ ہے التباس۔

آج زندگی کے بازار میں جس شے کو چاہے دیکھ لیجیے، اصل سے زیادہ نقل کی بھرمار ہے، اور نقل بھی ایسی کہ آدمی دھوکا ہی تو کھا جائے۔ مذہب سے لے کر سیاست تک، تعلیم سے لے کر علاج تک، غذا سے لے کر آرائش و آسائش تک، تصورات و افکار سے لے کر اشیا تک ایک ایسی چکا چوند ہے کہ دیکھنے والی نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے، اُبھرتی گونجتی، بلاتی لبھاتی آوازوں کا ایسا منظر ہے کہ توجہ کا دامن کھینچے لیے جاتا ہے— لیکن (اور یہ لیکن پوری توجہ چاہتا ہے) جہاں اور جسے قریب جاکر ذرا غور سے دیکھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اصل تو کہیں دب کر رہ گیا ہے، نقل ہر طرف چھائی ہوئی ہے اور ایسا التباس پیدا کیے دے رہی ہے کہ سب کچھ اسی کو مان لیجیے اور اصل کو فراموش کردیجیے۔

ادب کا منظرنامہ بھی کوئی استثنا نہیں رکھتا۔ یہاں بھی اکثر و بیشتر تھوتھے چنے باجتے سنائی دیتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ کہیں ان میں جینوئن تخلیق کار بھی شامل نظر آتے ہیں اور ان کے بھی وہی لچھن ہیں، مجال ہے کہ فرق محسوس ہو۔ اب ذرا یہاں توقف کیجیے کہ یہ تأمل اور ملال کا محل ہے۔

اس لیے کہ آپ کل تک جن کو ادب کا حقیقی جوہر اور جینوئن تخلیق کار جان کر خوش ہوتے اور داد دیتے رہے، آج وہ نقالوں اور مفاد پرست کاروباری ذہنیت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ آپ کی قیافہ شناسی نے غچا کھایا ہے یا پھر التباس کا سیلاب اصل کو بھی نقل کے ساتھ بہائے لیے جانے کے درپے ہے۔ آپ کا جواب کچھ بھی ہو، لیکن افسوس دونوں صورتوں کا نتیجہ ہے۔

اس میں رتی برابر شبہ نہیں کہ آج ادب کو کاروبار کی طرح منفعت کا ذریعہ بنانے والوں میں جینوئن تخلیق کار بھی ہیں، لیکن انھیں مسئلہ یہ پیش آیا کہ دنیا اور آسائشِ دنیا ان پر غالب آچکی۔ اپنے فن کے ذریعے وہ اس کے حصول میں لگ گئے۔ معاملہ انتخاب کا ہو تو فن ہمیشہ مقدم رہا ہے اور حقیقی تخلیق کار کے اندر ایک استغنا ہوتا ہے۔ دنیا اور اس کی تمام تر آسائشیں اس کے نزدیک پرندے کے پروں پر پڑنے والی گرد سے بھی کم تر ٹھہرتی ہیں، لیکن ان دنیا پرستوں کو آسودگی اور دنیا کی خواہش مار گئی۔

نتیجہ اس کا یہ ہے کہ ان کے فن میں روح کی سچائی اور اندر کی آواز تو گونجتی ہے، سننے والوں کو سنائی بھی دیتی ہے، لیکن خود انھیں سنائی نہیں دیتی۔ یہ اپنے فن، اپنی تخلیق، اپنے ہنر کو بچانے اور زندہ رکھنے کے لیے دن رات مختلف ہتھکنڈے آزمانے میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن اپنے کام پر اعتبار اس کے اندر سے اٹھ جاتا ہے۔ یہ دنیا کے حصول کی قیمت ہے جو حقیقی جوہر رکھنے والا فن کاراپنی دنیا پسندی کے لیے ادا کرتا ہے۔

آج ہماری ادبی فضا پر جن لوگوں کا غلبہ ہے، ان میں اکثریت ادیب شاعر کا التباس پید اکرنے والے ہیں،ان کے ساتھ کچھ وہ تخلیق کار بھی ہیں جن کا جوہر تو اصلی ہے، لیکن یہ لوگ اس کے اعتبار سے محروم ہیں۔ ایسا نہیں کہ اس عہد کا ادب شب زندہ داروں سے یکسر محروم ہو چکا ہے۔ ہرگز نہیں۔ وہ ہیں اور اسی استحکام کے ساتھ ہیں جو ایک سچے ادیب شاعر میں ہوتا ہے۔

ہاں، اس وقت ایسے لوگ زیادہ تر ادبی منظرنامے کے صدر میں نہیں حاشیے پر ہیں، تاہم یہ بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ تہذیبوں کی زندگی میں ایسے ادوار پہلے بھی گزرتے رہے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں پھر ادب و تہذیب کے اندر سے ہی ایک شرارہ اٹھتا ہے اور اطراف کے کاٹھ کباڑ کو خاکستر بنا کر ایک طرف ڈال دیتا، منظر اُجال دیتا ہے۔