• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شان الحق حقی: ان جیسے زبان داں کا ہمسر اُردو دنیا میں مشکل ہی سے ملے گا

لغت نویسی، غائب دماغی اور بھلکڑپن کے لیے شان الحق حقی صاحب مشہور تھے اور اس سلسلے میں جو واقعات زباں زدِ عام ہیں ان میں سے بیشترسچ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک بار بیگم کے ساتھ خریداری کے لیے بازار گئے۔بیگم کسی دکان میں گئیں اور حقی صاحب کو اچانک خیال آیا کہ اردو کے فلاں لفظ کی سند میں فلاں شعر آسکتا ہے اور اس شعر سے اس لفظ کے معنی وغیرہ طے کرکے لغت میں لکھے جاسکتے ہیں۔

بس پھر کیا تھا! باقی سب کچھ ذہن سے نکل گیا اور یہ بھی یاد نہ رہا کہ بیگم کے ساتھ آئے تھے۔ جناب نے گاڑی اسٹارٹ کی اور اردو لغت بورڈ کے دفتر پہنچ گئے۔ اپنا کمرہ کھلوایا اور متعلقہ کتابیں اور سندوں کے کارڈ وغیرہ منگوا کر لفظ ، اس کے مفہوم اور استعمال کی سند لکھنے لگے اور بات لغت کی ہو تو حقی صا حب بھلا کہاں بس کرنے والے تھے، آدھی آدھی رات تک لغت بورڈ کے دفتر میں کام کرتے رہتے تھے۔

اس روز بھی اس کام میں ایسے ڈوبے کہ رات ہوگئی۔ پھر یاد آیا کہ بیگم کوشاپنگ کرتا چھوڑ آئے ہیں۔ گاڑی دوڑاتے ہوئے مارکیٹ پہنچے۔ سب دکانیں بند تھیں کیونکہ خاصا وقت ہوچکا تھا۔ گھر پہنچے تو بیگم موجود تھیں اور کہنے لگیں کہ مجھے معلوم تھا آپ کو لغت کا کوئی نکتہ یاد آگیا ہوگا اس لیے میں ٹیکسی لے کر گھر آگئی تھی۔

اس زمانے میں موبائل فون تو تھے نہیں کہ کوئی اطلاع دی جاسکتی بلکہ تار والے فون (جنھیں اب لینڈ لائن کہا جاتا ہے) بھی خال خال گھروں میں ہوتے تھے۔ لیکن بیگم سلمیٰ حقی ان باتوں کی شاید عادی ہوچکی تھیں اور ویسے بھی وہ ایک کالج میں پروفیسر تھیں، شعر و ادب سے ان کا گہر اتعلق تھا اور اپنے شوہر کے مزاج کو خوب سمجھتی تھیں لہٰذا اطمینان سے گھر پہنچ گئیں۔

دراصل حقی صاحب شعر وادب، لفظ ومعنی اور لغت نویسی کے اسرار و رموز پر غور و فکر میں اتنے غرق رہتے تھے کہ کبھی کبھی گھر بار اور بیوی بچوں کو بھی بھلا بیٹھتے تھے۔ ان کے صاحب زادے شایان الحق حقی نے راقم کو بتایا کہ ابا کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ہم کس کلاس پڑھتے ہیں اور کبھی کوئی مہمان پوچھ بیٹھتاکہ بچہ کون سی کلاس میں ہے تو ابا ہم سے کہتے کہ بتاؤ بیٹا ! دراصل انھیں معلوم ہی نہیں ہوتا تھا اور معلوم ہوتا بھی تو یاد نہیں رہتا تھا کہ کون سا بچہ کس کلاس میں ہے۔

آخری شعر اُن کی ابدی آرام گاہ پر لگے کتبے پر کندہ ہے
آخری شعر اُن کی ابدی آرام گاہ پر لگے کتبے پر کندہ ہے

مشتاق احمد یوسفی نے حقی صاحب کی اس غائب دماغی پر پُرلطف تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’حقی صاحب تحقیق کے مردِ میداں ہیں ، انھیں قدیم الفاظ و واقعات کے علاوہ کوئی اور بات مشکل سے یاد رہتی ہے ، مثلاً وہ یہ فوراً بتادیں گے کہ ’’تئیں‘‘ کب متروک ہوا، استاد(غالب) کے کلام میں ’’آئینہ ‘‘ کتنی مرتبہ آیا ہے ، ’’ستم پیشہ ڈومنی ‘‘نے ’’مغل بچہ‘‘ کو کس سنہ میں داغِ مفارقت دیا، استاد کے مکان کا پتا اور بقایا کرایہ کتنا تھا ، لیکن اپنے مکان کا نمبر بتانے کے لیے انھیں بیگم سے تبادلۂ شکوک کرنا پڑتا ہے۔ وہ خود بھی اپنی غیر حاضر دماغی کے لطیفوں کو سِکّھوں کے سمجھ کر خوب محظوظ ہوتے ہیں ‘‘ (دیباچہ ،خاکم بدہن)۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ شان الحق حقی صاحب نے اردو لغت بورڈ کے لیے سترہ (۱۷) سال جان توڑ محنت کی اور بلا معاوضہ کی۔ بورڈ سے کبھی کوئی تنخواہ نہیں لی۔پہلے حکومت کے محکمۂ اطلاعات میں ملازم تھے اور پھر پی ٹی وی کے شعبۂ فروخت (سیلز ) میں۔ جب بھی وقت ملتا لغت بورڈ پہنچ جاتے، خاص طور پر چھٹی کے دن بورڈ میں لغت کاکام اعزازی طور پر کرتے رہتے او ر یہ مسلسل سترہ سال تک کیا۔

اٹھاسی (۸۸) برس کی عمر پائی اور آخر تک لغت نویسی سے عشق کی حد تک لگاؤ رہا۔ اوکسفرڈ کی اردو بہ انگریزی لغت اور فرہنگِ تلفظ ان کے یادگار کام ہیں۔ انتقال سے پہلے ایک اردو بہ اردو لغت پر کام کررہے تھے جو نامکمل رہ گئی۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہوگا کہ لغت نویسی شان الحق حقی کی پہلی محبت تھی۔

پہلی محبت (first love) کے لغوی معنوں سے قطع نظر، یہ ترکیب مجازی یا مرادی معنوں میں ایک اور مفہوم میں بھی مستعمل ہے اور پہلی محبت کے مرادی معنی ہیں: کوئی کام یا سرگرمی یا مشغلہ جس سے کسی کو شدید جذباتی لگاؤ ہو اور وہ اسے ساری زندگی عزیز رکھے۔

اہلیہ، بیگم سلمیٰ حقی کے ساتھ
اہلیہ، بیگم سلمیٰ حقی کے ساتھ 

شان الحق حقی کی ادبی شخصیت کی کئی جہات ہیں، وہ شاعر، نقاد، ماہرِ غالبیات ،مترجم، افسانہ نگار، خاکہ نویس، محقق، مدوِّن، مزاح نگار، بچوں کے ادیب، مدیر، اور ماہرِ زباں تو تھے ہی، لیکن لغت نویسی ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔

بیک وقت ادب کی تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی جہات پر حاوی ہونا بذاتِ خود ایک انفرادیت ہے لیکن جو خصوصیت حقی صاحب کو اپنے معاصرین میں منفرد و ممتاز بناتی ہے وہ ان کی ہر ادبی جہت میں تجربات کرنے، تنو ّ ع پیدا کرنے ، ایک خاص نقطۂ نظر رکھنے اور انھیں پورے اعتماد سے پیش کرنے کی صفت ہے۔ لیکن زبان و لغت سے ان کی وابستگی اتنی شدید تھی اور عملی لغت نویسی کے علاوہ لغت اور زبان کے مسائل پرا تنا کام کیا کہ لغت سے لگاؤ اور لغت نویسی میں مہارت ان کی بنیادی پہچان بن گئی۔ یہاں حقی صاحب کی اسی ادبی جہت پر کچھ عرض کیا جارہا ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شاعری اور لغت نویسی کا ذوق شان الحق حقی کو ورثے میں ملا تھا کیونکہ ان کے والد احتشام الدین حقی بھی اردو اور فارسی کے شاعر اور لغت نویس تھے۔ احتشام الدین حقی کو باباے اردو مولوی عبدالحق نے انجمن ترقیِ اردو کی جانب سے اردو کی ضخیم ترین لغت مرتب کرنے کی ذمے داری دی تھی۔ احتشام الدین حقی پندرہ (۱۵) برس تک اس کام میں جتے رہے۔

ہر لفظ کے استعمال کی سندیں اردو کے مستند لکھنے والوں کی تحریروں سے جمع کیں۔ اس کام میں کھانا پینا تک بھول جاتے اور دیوانوں کی طرح رات رات بھر کام کرتے رہتے۔ اس کی کچھ تفصیل شاہد احمد دہلوی نے اپنے رسالے ’’ساقی‘‘ میں دی تھی اور لکھا تھا کہ یہ لغت حرف لام (ل) تک پہنچ چکی تھی۔

تمغۂ امتیاز وصول کرنے کے بعد
تمغۂ امتیاز وصول کرنے کے بعد 

احتشام الدین حقی کو حیدرآباد (دکن) کی ریاست کی جانب سے انجمن ترقیِ اردو کے توسّط سے اس کام کا اعزازیہ ملتا تھا اور بارہ سال بعد اعزازیہ بند ہوگیا مگر احتشام الدین حقی اس کام کو بلا معاوضہ اسی تن دہی سے کرتے رہے کیونکہ انھیں لغت نویسی سے عشق تھا۔

مختصراً یہ کہ احتشام الدین حقی شدید محنت کی وجہ سے بیمار پڑگئے اور پاکستان بننے سے قبل ان کا انتقال ہوگیا۔ جب اس لغت کے کچھ حصے مولوی عبدالحق کی وفات کے خاصے عرصے بعد انجمن ترقیِ اردو (کراچی) سے’’لغت ِ کبیر‘‘کے نام سے شائع ہوئے تو اس پرصرف مولوی عبدالحق کا نام تھا اوراحتشام الدین حقی کی جاں فشانی کا اعتراف تو کجا ان کا نام بطور معاون تک نہیں دیا گیا تھا۔ اس پر کچھ ہنگامہ بھی ہوا لیکن پھر بات آئی گئی ہوگئی۔

کچھ یہی معاملہ شان الحق حقی صاحب کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حقی صاحب نے اردو لغت بورڈ (جس کا نام پہلے ترقیِ اردو بورڈ تھا) کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بورڈ انیس سو اٹھاون (۱۹۵۸ء) میں حکومتِ پاکستان نے قائم کیا اور اس کا کام اردو کی ضخیم ترین لغت مرتب کرنا تھا جس میں اردو کا ہر لفظ ہو اور ہر لفظ کی سند ہو۔ مولوی عبدالحق اس کے پہلے مدیرِ اعلیٰ تھے۔ انیس سو اُنسٹھ (۱۹۵۹ء )میں حقی صاحب بورڈکے معتمد( سیکریٹری) مقرر ہوئے۔

انیس سو اکسٹھ (۱۹۶۱ء )میں مولوی عبدالحق کے انتقال کے بعد اگلے پندرہ برسوں تک بورڈ میں کوئی مدیرِ اعلیٰ نہ تھا اور حقی صاحب ہی عملاً مدیرِ اعلیٰ اور سیکرٹری کا کام بلا معاضہ انجام دیتے رہے۔ انھیں بھی اپنے والد کی طرح لغت سے عشق تھا۔

حقی صاحب نے نہ صرف اس لغت کی تدوین و ترتیب کے ابتدائی بنیادی اصول مرتب کیے اور سندوں کے بارہ لاکھ کاڑد تیار کرائے بلکہ خود اپنے ہاتھ سے سند کے ہزاروں کارڈ لکھے۔ بورڈ کی لغت کی ابتدائی جلدوں کے مسودے اپنی نگرانی میں تیار کرائے۔ بورڈ کا رسالہ سہ ماہی اردونامہ جاری کیا اور اس میں اردو لغت،لغت نویسی کے اصول، لسانیات، قواعد اور متعلقہ موضو عا ت پر مسلسل وقیع مضامین شائع کیے۔

شان الحق حقی کا ایک انداز
شان الحق حقی کا ایک انداز 

لیکن کچھ لوگ جن کے کچھ ذاتی مفادات تھے حقی صاحب کے مخالف تھے۔ لغت کی پہلی جلد تقریباً تیار تھی اور طباعت کا آغاز ہونے والا تھا لیکن سازشی عناصر حقی صاحب کی شکایتیں حکومت تک پہنچاتے رہے۔ آخر سازشوں سے تنگ آکر حقی صاحب نے انیس سو چھہتر ( ۱۹۷۶ء) میں بورڈ سے استعفا دے دیا۔ حقی صاحب کے استعفے پر خاصا ہنگامہ ہوا اور اخباروں میں کالم بھی لکھے گئے۔ لیکن بات آئی گئی ہوگئی۔

البتہ اس قوم کی خوش قسمتی سے اردو لغت بورڈ حقی صاحب کے دیے ہوئے رہنما خطوط پر کام کرتا رہا اور باون(۵۲) برس کی محنت کے بعد یہ عظیم لغت آخر بائیس (۲۲) جلدوں میں مکمل ہوگئی۔ ۲۰۱۰ء میں اس کی آخری جلد شائع ہوئی ۔ اس منصوبے کے آغاز میں جن لوگوں نے اپنا خونِ جگر پیش کیاان میں شان الحق حقی نمایاں تر ین تھے۔

حقی صاحب نے زبان ، لغت ، ادب اور لسانیات پر جو مضامین لکھے وہ اساتذہ اور لغت نویسوں کے لیے آج بھی روشنی کا مینار ہیں ۔حقی صاحب نے مسلسل محنت، مطالعے اورغور وفکر سے اس فن میں ایسی مہارت پیدا کی کہ ان کا شمار اردو کے نام ور لغت نویسوں میں ہوتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شان الحق حقی جیسے لغت نویس اور زبان داں کا ہمسر اردو دنیا میں مشکل ہی سے ملے گا۔

شان الحق حقی نے کئی علمی و ادبی کام کیے اور ان سب کاموں میں زبان کا شعوراور لغت سے لگاؤ کی کی چھاپ نمایاں ہے۔ یہی کیفیت ان کی شاعری کی بھی ہے اور نثر کی بھی۔ دہلی کا محاورہ گویا حقی صاحب کے گھر کی بات ہے لیکن پاکستانی اردو اور پاکستانی زبانوں (پنجابی، سندھی ، بلوچی، پشتو وغیرہ) کے رنگوں کو خوب صورتی سے اردو میں سمونا حقی صاحب کی لسانی مہارت کے ساتھ ان کی لسانی بے تعصبی کا بھی شاہد ہے۔

ان کا خیال تھا کہ اردو زبان اپنے پرانے مراکز سے ہٹ چکی ہے اور نئی اردو کی صورت گری اب پاکستان میں ہورہی ہے اس لیے اس میں اہلِ زباں کے محاورے اور لہجے پر اصرار کرنا مناسب نہیں بلکہ پاکستانی زبانوں کے الفاظ کے شمول سے اردو میں ایک نیا اور منفرد رنگ پیدا ہورہا ہے۔

اردو زبان میں پراکرت، سنسکرت اور ہندی کے الفاظ اس طرح برتنا کہ وہ نہ تو اوپرے لگیں اور نہ ابلاغ میں رکاوٹ بنیں بلکہ نگینے کی طرح جڑے معلوم ہوں اور اردو کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ثابت ہوں، یہ ہنر حقی صاحب سے زیادہ کون جان سکتا تھااور یہ ہنر ان کی تحریروں میں جھلکتا ہے۔

ان کے کیے ہوئے تراجم دیکھیے تو قدیم ہندوستان کے معروف دانش ور چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر ہو، بھگود گیتا کا منظوم ترجمہ ہو، پاکستانی زبانوں کی شاعری کا ترجمہ ہویا شیکسپئر کی انٹونی اینڈ کلیوپیٹرا کا منظوم ترجمہ ہو، حقی صاحب نے ایسی سہولت سے ان سب شہ پاروں کو اردو میں منتقل کیا کہ کیا پڑھنے والے اور کیا نقاد، سبھی قائل ہوگئے۔

شان الحق حقی ۱۵؍ ستمبر ۱۹۱۷ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور ۱۱؍اکتوبر ۲۰۰۵ء کو کینیڈا میں انتقال کیا۔

حقی صاحب کی آخری آرام گاہ کے کتبے پر خود اُن کا یہ شعر کندہ ہے:

دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ

اور کچھ دن غمِ ہستی سے نباہے جاتے