اُردو شاعری میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، ’’تعلّی‘‘۔ عربی زبان سے مستعار لی گئی اس اصطلاح کے معنی کچھ یوں قرار دیے جاسکتے ہیں۔ ’’شاعر کا اپنے حق میں مبالغہ (خواہ ملیح ہو، خواہ قبیح)۔‘‘ عربی لغت ’’المنجد‘‘ میں اس لفظ کی وضاحت یوں ہے۔ ’’خُود کو بڑا سمجھنا، خُود نُمائی، تکبّر، یا خُود کو دوسروں سے برتر سمجھنا۔‘‘ فارسی زبان میں بھی تعلّی کی روایت موجود رہی ہے۔ فارسی شعراء کے اپنی ذات سے متعلق فخر و مباہات کے اظہار کو ’’مفاخرہ‘‘ یا ’’خُود ستائی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
حافظؔ شیرازی نے اس بات کو کچھ یوں بیان کیا۔ ؎ زشعرِ دل کشِ حافظؔ کسی بَوَد آگاہ… کہ لُطفِ طبع وسخن گفتنِ دری داند (حافظؔ کے دل کش شعر کی قدر وہی انسان جان سکتا ہے، جو طبیعت کی لطافت اورفارسی کااندازِ گفتگو سمجھتا ہو) اُردو کی شعری روایت بھی اس مخصوص فکر سے پوری طرح آشنا رہی ہے۔ سو، ’’شاعرانہ تعلّی‘‘ کو بہ اعتبارِ لغت یوں بیان کیاجاتا ہے۔
’’حقیقت سے بعید دعویٰ، شاعرانہ جواز، بڑائی کا دعویٰ، شاعرانہ بڑائی۔‘‘ مولوی نورالحسن نیّر کی مشہورِ زمانہ ’’نوراللغات‘‘ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ’’(عربی۔علو۔ مادّہ بلندی) مونّث۔ شیخی۔ ڈینگ۔ تعلّی پر آنا۔ تعلّی کی لینا۔‘‘ صرف عربی، فارسی اور اُردو ہی نہیں، انگریزی زبان میں بھی ’’اپنی تحسین آپ‘‘ یا محاورے کی زبان میں ’’اپنے منہ میاں مٹھو بننا‘‘ کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔
مشہور انگریزی نقّاد، جان کیٹس نے"Egotistical Sublime" کی اصطلاح استعمال کی اور جسے ولیم ورڈزورتھ کی اپنے بارے میں استعمال کی جانے والی تعریف کے پس منظرمیں بیان کیا ہے۔ بنیادی طور پر اس شعری اصطلاح کو استعمال کرنے کا حق بھی شعراء ہی کے پاس رہا ہے، کیوں کہ شاعر کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنی شعری تخلیق میں یہ اصطلاح برت سکے۔ قطع نظر اس بات کے کہ اُس کی تعلّی صحیح ہے یا غلط۔
تاہم، عمومی طور پر نثرنگار اپنی تمام ترعلمی فضیلتوں کے باوجود اُس کے ادّعا سے محروم رہتا ہے۔ مثال کے طور پر مختار مسعود اپنی شاہ کار نثری تخلیق ’’آوازِ دوست‘‘ میں کسی مقام پر’’مبالغۂ ملیح‘‘ کے بھی متحمّل نہیں ہوسکے، حالاں کہ اُنہیں ’’تعلّی‘‘ خُوب خُوب زیب دیتی۔ یہی کچھ مولانا ابوالکلام آزاد کی ’’غبارِ خاطر‘‘ اور مولانا محمّد حسین آزاد کی ’’آبِ حیات‘‘ کے ضمن میں بھی کہا جا سکتا ہے۔
شادؔ عظیم آبادی نے شعر کو نثر سے برتر قرار دیتے ہوئے کہا تھا۔ ؎ اثر زیادہ ہوسامع پہ نثرکی نسبت… اِسی لیے ہے فقط شعر و شاعری کی بِنا۔ سو، جب ہم کسی شاعر کی تخلیق یاشعری اظہار سے اثر لیتے ہیں تواسی طرح ’’شاعرانہ تعلّی‘‘ بھی ہم پرکہیں نہ کہیں اثر ڈال رہی ہوتی ہے۔ خیر، زیرِنظر تحریر اُردو شعراء کی متذکرہ صفت (ملیح و قبیح) کے ایک اجمالی جائزے پر مبنی ہے۔
معانیؔ محمّد قلی قطب شاہ (1566-1662 ) کو اُردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر قراردیا جا سکتا ہے۔ اُن کے دَورمیں زبان بہت صاف نہیں ہے، تاہم سمجھ میں آتی ہے۔ ؎ چنچل، چھبیلی، چھند بھری رفتار پکڑی ہورروش… ساری رویشاں چھوڑ کر او نار پکڑی ہور روش۔ اب تعلّی دیکھیے۔ ؎ نزاکت شعر کے فن میں خدا بخشا ہے تو تج کوں… معانیؔ شعر تیرا ہےکہ یا شعر خاقانیؔ۔ ولیؔ دکنی (1650-1720 ) اُردو کے وہ پہلے شاعر سمجھے جا سکتے ہیں کہ جن کے یہاں سماجی و تہذیبی و صوفیانہ خیالات کے ساتھ حُسن وعشق کی کارفرمائیاں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔
یہاں وہ شعر درج کیا جاتا ہے، جس میں آخر الذکراحساس نمایاں ہے۔ ؎ ہوش کھوتی ہے نازنیں کی ادا… سِحر ہے، سروِ گُل جبیں کی ادا۔ تعلّی اُن کویوں زیب دیتی ہے کہ یار کا سراپا تصویر کی صُورت سامنے لے آتے ہیں۔ ؎ ہٹیلا ہے، جفا جُو ہے، ستم گر ہے، شرابی ہے… کہ جاں بازی میں آفت ہے، قیامت ہے، خرابی ہے … تبسّم ہے، نگہ ہے، زلف ہے، چہرہ گلابی ہے… کہ ظالم ہے، دو رنگی ہے، ستم گر ہے، شرابی ہے۔
اُن کے یہاں تعلّی اپنی شان و شوکت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ؎ ولیؔ ہر شعر میں میرے نزاکت جلوہ پیرا ہے… عزیزاں طبع میں میری عجب نازک خیالی ہے۔ ؎ پیدا ہوا ہے جگ میں ولیؔ صاحبِ سُخن… میری طرف سے جا کے کہو انوریؔ کے تئیں (انوریؔ کا شمار فارسی زبان کےقد آورشعراء میں ہوتا ہے۔) شاہ مبارک آبروؔ دورِ متقدّمین کے مشہور شاعر تھے۔ اُن ہی کے عہد کے ایک اور مشہور شاعر مظہر مرزا جانِ جاناں تھے۔
ان دونوں کی معاصرانہ چشمکیں مشہورتھیں۔ آبروؔ کی تعلّی کا رنگ دیکھیے۔ ؎ عزت ہے جوہری کی جو قیمتی ہو گوہر… ہے آبروؔ ہمن کوں جگ میں سخن ہمارا۔ مرزا مظہر کا رنگ بھی دیکھتے ہیں۔ ؎ بلبل فدا ہوئی ہے ترے رُخ پہ اے صنم… سنبل ہے پیچ پیچ تری زلف و بال دیکھ۔ رنگِ تعلّی کچھ یوں ہے۔ ؎ جواں مارا گیا خوبوں کے اوپر میرزا مظہرؔ …بھلا تھا یا برا تھا، زور کچھ تھا خوب کام آیا۔ غلام مصطفیٰ خاں یکرنگؔ بھی دورِ قدیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ رنگِ تعلّی دیکھیے۔ ؎ لگے ہیں خوب کانوں میں بتوں کے… سُخن یکرنگؔ کے گویا گہر ہیں۔
میر تقی میرؔ کو بجا طور پر اُردو شاعری کا ’’میرِ کارواں‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ شعراء میں متوسطّین سے متاخرین تک اور ناقدین میں محمّد حسین آزاد و حالیؔ سے ڈاکٹر شمس الرحمان فاروقی تک اُن کی عظمت کے قائل ہیں۔ اگر میرؔ کی بڑائی اور فکردُرست طور پر سمجھنی ہے تو ڈاکٹر شمس الرحمان فاروقی کی ’’شعرِشورانگیز‘‘ (چار جِلدیں اور ہر جِلد لگ بھگ سات سو صفحات پر مشتمل) پر ایک نظر ڈال لی جائے۔
میرؔ کی شاعرانہ تعلّی کا رنگ دیکھنے کی چیز ہے، تاہم اس سے پیش تر کہ اس رُخ سے میرؔ کےاشعار پیش کیےجائیں، چند ایک وہ اشعار نامناسب نہ ہوں گے، جن میں بڑے شعراء نے دل کھول کر میرؔ کی بڑائی تسلیم کی۔ غالبؔ کا مشہور شعرجس کا دوسرا مصرع شیخ امام بخش ناسخ کے شعرؔ سے مستعارلیا گیا ہے، کچھ یوں ہے۔ ؎ غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بہ قولِ ناسخؔ …آپ بےبہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں۔ ؎ میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ… جس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں۔
امیر مینائیؔ نے میرؔ و سوداؔ دونوں کی بڑائی کے سامنے سرِتسلیم خم کیا ہے، لیکن اس درجہ کمالِ ہُنر مندی سے کہ دونوں شاعروں کا رنگِ سُخن بھی سامنے رہے۔ ؎ سوداؔ و میرؔ دونوں تھے کامل مگر امیرؔ … ہے فرق واہ واہ میں اور آہ آہ میں۔ ذوقؔ نے میرؔ کے رنگِ تغزّل کا اعتراف اس طور کیا۔ ؎ نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب… ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا۔
میرؔ کا رنگِ سُخن پیش کرنا دشوار ہے، محض چند ایک اشعار پیش کیے جاتے ہیں۔ ؎ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا… دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا۔ ؎ دلِ پُرخوں کی اِک گلابی سے… ہم رہے عُمر بھی شرابی سے۔ ؎ چشمِ خُوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا… ہم تو سمجھے تھے کہ اے میرؔ یہ آزار گیا۔ اب میرؔ کی شاعرانہ تعلّی دیکھتےہیں۔ ؎ سارے عالم پرہوں مَیں چھایا ہوا… مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔ ؎ جہاں سے دیکھیے یک شعر شور انگیز نکلے ہے… قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہرجا میرے دیواں میں۔ ذرا یہ تیور بھی دیکھیے۔؎ جانے کا نہیں شور سخن کا مِرے ہرگز… تا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا۔ ؎ برسوں لگی ہوئی ہیں جب مہر ومہ کی آنکھیں… تب کوئی ہم سا صاحب، صاحبِ نظر بنے ہے۔ ؎ تذکرے سب کے دھرے رہ جائیں گے… جب مِرا انتخاب نکلے گا۔
میرؔ کے ہم عصر، میرزا رفیع سوداؔ کی تعلّی کا منفرد رنگ کچھ یوں ہے۔؎ ظالم نہ مَیں کہا تھا کہ اس خُوں سے درگزر… سوداؔ کا قتل ہے یہ چُھپایا نہ جائے گا۔ ؎ ہو کے استاد دبستانِ سُخن میں سوداؔ… شعر کے قاعدہ دانان جہاں پر آیا۔ میرؔ اور سوداؔ کے ہم عصر خواجہ میر دردؔ نے اپنا رنگِ سُخن الگ نکالا۔ غزل میں تعلّی کا انداز کچھ یوں ہے۔ ؎ اے دردؔ کہا مَیں نے مِلو جس سے کہ چاہو… کہنے لگا تجھ سا کوئی انسان ملے گا۔
میر تقی میرؔ کی مانند غالبؔ بھی اُفقِ شعرو سُخن پر حُکم رانی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نقّادانِ سُخن اُن کی عظمت تسلیم کرنے میں کسی بُخل سےکام نہیں لیتے۔مثال کے طور پر عبدالرحمان بجنوری کی شناخت اُن کی مشہورِ زمانہ ’’محاسنِ کلامِ غالبؔ ‘‘ ہے، جس کی ابتدا اس جملے سے ہوتی ہے۔ ’’ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں۔ مقدّس وید اور دیوانِ غالبؔ۔‘‘
علاّمہ اقبالؔ کا اوّلین شعری مجموعہ ’’بانگِ درا‘‘ ہے۔بےمثل کتاب کا شاہ کار مقدّمہ سرعبدالقادر، مدیرِ’’مخزن‘‘ نے تحریر کیا۔ ابتدائیہ غالبؔ کےذکرسےہوتا ہے۔ ’’کسے خبر تھی کہ غالبؔ مرحوم کے بعد ہندوستان میں پھر کوئی ایسا شخص پیدا ہوگا، جو اُردو شاعری کےجسم میں ایک نئی رُوح پھونک دے گا اورجس کی بدولت غالبؔ کا بےنظیر تخیّل اور نرالا اندازِ بیان پھر وجود میں آئیں گے اور ادبِ اُردو کے فروغ کا باعث ہوں گے۔‘‘میرؔ کی مانند یہاں بھی نمونے کے اشعار پیش کرنا دشوار ہے۔
محض چند ایک پیش کیے جاتے ہیں۔ ؎ درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا… مَیں نہ اچھا ہوا، بُرا نہ ہوا۔ ؎ لکھتے رہے جُنوں کی حکایاتِ خوں چکاں … ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے۔ ؎ درد ہو دل میں تو دواکیجے… دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے۔ ؎ کی فرشتوں کی راہ ابر نے بند… جو گنہ کیجیے، ثواب ہے آج۔ ؎ وَرَق تمام ہوا اورمدح باقی ہے… سفینہ چاہیے اس بحرِ بےکراں کے لیے۔ اب غالبؔ کا رنگِ تعلّی بھی ملاحظہ کیجیے۔ ؎ ہیں اور بھی دنیا میں سُخن وَر بہت اچھے… کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور؎ ہوں گرمیٔ نشاطِ تصوّر سے نغمہ سنج… مَیں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں۔ ؎ ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کونہ جانے… شاعر تو وہ اچھا ہے، پہ بدنام بہت ہے۔ ؎ گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے…جو لفظ کہ غالبؔ مِرے اشعار میں آوے۔ ؎ صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ… کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے۔
غالبؔ کے ہم عصر، نام وَر شاعر مومن خان مومن نے غزل کی آبرو کو چار چاند لگائے۔ جس غزل کو غالبؔ نے دیکھنے کے بعد اُس کے ایک شعر کے عوض اپنا سارا کلام نذر کرنے کی خواہش کی تھی، اُس غزل کامطلع یہ ہے۔ ؎ اثراُس کو ذرا نہیں ہوتا… رنج، راحت فزا نہیں ہوتا۔ جب کہ شعریہ ہے۔ تم مِرے پاس ہوتے ہوگویا… جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ مومنؔ کا شاعرانہ رنگِ تعلّی اظہار کا یہ پیرایہ اختیار کرتا ہے۔ ؎ کافر اُسے بنانا تھا یہ کیا کیا بُتو…مومنؔ سے مل کے تم بھی مسلمان ہوگئے۔ ؎ مومنؔ لازم ہے وضع مرغوب بنے… جو رنگ ہو آدمی خوش اسلوب بنے۔ ؎ اے تپِ ہجر دیکھ مومن ہیں… ہے حرام آگ کا عذاب ہمیں۔
غالبؔ ومومنؔ کے ہم عصر، ذوقؔ دہلوی کے شاعرانہ کمالات زبان و بیان کےاظہار میں پوری طرح نمایاں ہوتے ہیں۔ اشعار میں محاورات، ضرب الامثال اورروزمرّہ کا استعمال اُنہیں خُوب خُوب آتا ہے۔ یہاں تک کہ اُن کے بہت سے اشعار ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ؎ کہتے ہیں ذوقؔ آج جہاں سے گزر گیا… کیا خُوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے ؎ جس انساں کو سگِ دنیا نہ پایا… فرشتہ اُس کا ہم پایا نہ پایا۔ ؎ فکرِسُخن سے ذوقؔ قیامت تلک ہے نام… اولاد سے یہی نا کہ دو پشت چار پشت۔
اندازِ تعلّی دیکھیے۔ ؎ یہ ذوق مے پرست ہے یا ہے صنم پرست… کچھ ہے بلا سے، ایک محبت پرست ہے۔ حالیؔ، شبلیؔ، آزادؔ سمیت بہت سے نقّادانِ سُخن جس شاعر کی عظمت کے معترف رہے، وہ میرببرعلی انیسؔ ہیں۔ مختلف شعراء کے یہاں جہاں کوئی صنعت اختصاصی حیثیت میں نظرآتی ہے،انیسؔ کے یہاں تمام شعری صنعتوں کا نقطۂ کمال نظر آتا ہے۔ اُن کا شعری افتخار، حُسنِ تعلّی بن کر سامنے آتا ہے۔ ؎گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں… اِک پھول کا مضموں ہوتو سو رنگ سے باندھوں۔ ؎ سُبک ہو چلی تھی ترازوئے شعر… مگر ہم نے پلّہ گراں کردیا۔ ؎ لگا رہا ہوں مضامینِ نَو کے پھر انبار… خبر کرو مِرے خرمن کے خوشہ چینوں کو۔ اُن ہی کے ہم عصر، مرزا دبیرؔ بھی اُفقِ شعر وسُخن پر جگمگاتے رہے۔
اُن کی ایک مشہور رباعی ہے۔ ؎ دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی… ہر شے یہاں کی آنی جانی دیکھی…جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا… جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی۔ مرزا دبیرؔ کا رنگِ سُخن دیکھیے۔ ؎ نالۂ بُلبل میں سب میری فغاں کا ڈھنگ ہے… دامنِ گُل میں چُھپا ہے جو وہ میرا رنگ ہے۔ ؎ ابنِ شہِ مرداں کا ثناء خواں ہوں مَیں… صد شُکر کہ پڑھنا مِرا مردانہ ہے۔ مرزا داغؔ دہلوی اور امیرؔ مینائی بھی شعر و سُخن میں کامل تھے۔
سو، اپنے فن کی بڑائی کا اظہار بھی اُنہیں زیبا تھا۔ ؎ مطلب کی چھیڑ اُن سے پنہاں سُخن سُخن میں… سچ ہے کہ داغؔ پُرفن یکتا ہے اپنےفن میں۔ ؎ نہیں ملتا کسی مضموں میں ہمارا مضموں…طرز اپنی ہی جدا سب سے جدا رکھتے ہیں۔ ؎ مَیں شعر پڑھ کے بزم سے کیا اُٹھ گیا امیر… بلبل چہک کے صحنِ چمن سے نکل گیا۔ ؎ چستیِٔ طبع سے استاد کا ہے قول امیر… ہو زمیں سُست، مگر چاہیے اچھا کہنا۔ غلام ہمدانی مصحفیؔ نے مشّاقیٔ سُخن کا خوب خوب اظہارکیا۔
غزلوں میں اُن کی صنّاعی بھرپورانداز میں سامنے آتی ہے۔ ؎ مصحفیؔ دردِ محبّت ہو نہاں کیا دل میں… یار تو بات کے انداز سے پا جاتے ہیں۔ اُن کی تعلّی کا رنگ کچھ یوں ہے۔؎ مصحفیؔ نظم غزل میں ہے یہ کس کا مقدور… جو جو طرزیں کہ ہم ایجاد کیا کرتے ہیں۔ ؎ انہوں کو صاحبِ خرمن سبھی سمجھتے ہیں… جو مصحفیؔ کے ہیں کہلاتے خوشہ چینوں میں۔
شیخ امام بخش ناسخؔ کی اصلاحِ زبان کی خدمات سے انکار شاید مشکل ہو۔ ناسخؔ کے تلامذہ نے بھی بہت نام کمایا۔ غالبؔ جیسے نابغۂ روزگار نےناسخؔ کی صلاحیتوں کا لوہا مانا ہے۔ ناسخؔ کی تعلّی کا انداز دیکھتے ہیں۔ ؎ کمی ہوتی نہیں نقدِ سُخن کی یاں کبھی ناسخؔ … ازل سے اپنے قابو میں معانی کا خزانہ ہے۔ ؎ عُمرِ خضر تک ناسخؔ ہے ثبات ہم کو بھی … گوہرِ سخن میں یاں، آبِ زندگانی ہے۔ ؎ ناسخؔ کی غزل سُن کے کہا کرتے ہیں شاباش… آتی ہے مجھے حافظِ شیراز کی آواز۔ ؎ جی لڑا دیتا ہے کیسی ہو زمینِ سنگلاخ … خامہ تیشہ ہے تو ناسخؔ کوہ کن سے کم نہیں۔ خواجہ حیدر علی آتشؔ باکمال سخن وَر تھے۔ ناسخؔ کے ہم عصر کی آواز بہت منفرد ہے۔ ؎ فکرِ بلند نے مِری ایسا کیا بلند… آتش زمینِ شعر سے پست آسماں ہوا۔ ؎ سالہا سال سے تحصیلِ سخن ہے آتش… اس قلم رو میں ہے مدّت سے اجارہ اپنا۔ ؎ بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں… شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصّع ساز کا۔
اقبالؔ نےاپنی خلّاقیٔ فکر سے اُفقِ شعر کو اتنی وسعت عطا کی کہ اُن سے پیش تراس کی مثال نہیں ملتی۔ فلفسیانہ مباحث کو شعری لسان کا رُوپ عطا کرنا اقبالؔ کا ایسا کارنامہ ہے، جس میں کوئی اُن کا ہم پلّہ نہیں۔ اُن کا شعری اسلوب اُن کی شخصیت کا غمّاز ہے۔ ؎ ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ … پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے۔ ؎ اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خُوب ہے لیکن… جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے، وہ نظر کیا۔ ؎ جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں… بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے۔؎ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید … کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکوں۔ ؎ افراد کے ہاتھوں میں ہےاقوام کی تقدیر… ہرفرد ہےملّت کے مقدّر کا ستارا۔
شاعرانہ تعلّی اُن کےیہاں اس رنگ میں دکھائی دیتی ہے۔ ؎ انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں… یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں۔ ؎ اقبالؔ بھی اقبالؔ سے آگاہ نہیں ہے… کچھ اس میں تمسخر نہیں، واللہ نہیں ہے ؎ متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی …مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی۔ جوشؔ ملیح آبادی کی ولولہ انگیز نظموں نے تقسیمِ ہند سے پیش تر پورے ہندوستان میں ایسی ہلچل پیدا کی کہ فرنگی ایوانوں میں زلزلہ سا آگیا۔
مناظرِ فطرت پراُن کی نظمیں، نیز رباعیات درجۂ کمال کی حامل ہیں۔ مسدّس تو اپنی مثال آپ ہیں۔ غزلوں میں بھی اُن کا رنگ دُور سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔؎ اے ہماری مشکلو! تم نے بھی کیا دھوکا کیا… عین دل چسپی کا عالم تھا کہ آساں ہوگئیں۔ ؎ دستِ نازک کو رسن سے اب چھڑانا چاہیے… اس کلائی میں تو کنگن جگمگانا چاہیے۔ تعلّی کا رنگ بھی دیکھنے کی چیز ہے۔؎ دانائےرموزِاین وآں ہوں اےجوشؔ… مولائےاکابرِجہاں ہوں اے جوشؔ… کیوں اہلِ نظر پڑھیں نہ کلمہ میرا… مَیں شاعرِ آخرالزماں ہوں اے جوشؔ۔
روایت اور جدّت کے امتزاج سے فیضؔ نے’’نقش فریادی‘‘ سےجس سفر کا آغاز کیا تھا، وہ ’’دستِ صبا‘‘ سے ہوتا جب اختتام پزیر ہوا تو کئی اور مجموعے مرتّب کرتا بصورتِ کُلّیات’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کی شکل میں اہلِ ادب سے توصیف و تحسین سمیٹتا رہا۔ ؎ ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے… جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے۔ ؎ مِرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو… جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چُکا دیا۔ ؎ جدا تھے ہم تو میسّر تھیں قُربتیں کتنی… بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا۔ فیض کی دھیمے لہجے کی تعلّی کا وزن بہ آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ؎ ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد… فیضؔ گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹہری ہے۔
مجازؔ نے تیس کے اختتامی عشرے سے جس تخلیقی سفر کا آغاز کیا، اُس نے اُنہیں ہندوستان میں بےمثل شہرت عطا کی۔ اُن کا نام اور کلام مقبولیت کی نئی بلندیوں پر پہنچا۔؎ تِرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خُوب ہے لیکن… تُو اس آنچل سے اِک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا۔ ؎ غیر کی بستی ہےکب تک دربدر مارا پھروں …ا ے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں۔ شاعرانہ تعلّی بھی خُوب صُورتی و درد کاامتزاج لیے نظر آتی ہے۔؎ اب اس کے بعد صُبح ہے اور صبحِ نومجازؔ… ہم پر ہے ختم شامِ غریبانِ لکھنؤ۔
جدید غزل گو ناصرؔ کاظمی کا بانکپن اُردو شاعری میں ایک خُوب صُورت اضافہ ہے۔ ؎ ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر…اُداسی بال کھولے سو رہی ہے۔؎ تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا… گزری ہے مجھ پہ یوں بھی قیامت کبھی کبھی۔ ناصرؔ کاظمی کی شاعرانہ تعلّی سادگی کے باوجود استقامت سے پُر ہے۔ ؎ کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصرؔ… یہ قافیہ پیمائی ذراکرکے تودیکھو۔
رئیسؔ امروہوی نے صنفِ قطعہ نگاری میں وہ اوج حاصل کیا کہ یہ فن گویا اُن ہی کی میراث ٹہرا۔ اُن کی شاعرانہ تعلّی کا زاویہ بھی منفرد ہے۔ ؎ جو ناسخِ آثارِ کُہن تھی وہ کتاب… بے خطرۂ تنسیخ لکھی ہےمَیں نے… آئینۂ اِمروز ہیں میرے اشعار… اس عہد کی تاریخ لکھی ہے مَیں نے۔