• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شعر و سخن: تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے ...

شان الحق حقی

تم سے اُلفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے 

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے

ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب

زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق

کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے

کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم

میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتے

ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال

ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے

لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے

ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے

ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا

گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتے

دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ

اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتے

…٭…٭…٭…

اک تمنا کہ سحر سے کہیں کھو جاتی ہے

اک تمنا کہ سحر سے کہیں کھو جاتی ہے

شب کو آ کر مرے آغوش میں سو جاتی ہے

یہ نگاہوں کے اندھیرے نہیں چھٹنے پاتے

صبح کا ذکر نہیں صبح تو ہو جاتی ہے

رشتۂ جاں کو سنبھالے ہوں کہ اکثر

تری یاداس میں دو چار گہر آ کے پرو جاتی ہے

دل کی توفیق سے ملتا ہے سراغ منزل

آنکھ تو صرف تماشوں ہی میں کھو جاتی ہے

کب مجھے دعوی عصمت ہے مگر یاد اس کی

جب بھی آجاتی ہے دامن مرا دھو جاتی ہے

ناخدا چارۂ طوفاں کرے کوئی ورنہ

اب کوئی موج سفینے کو ڈبو جاتی ہے

کر چکا جشن بہاراں سے میں توبہ حقیؔ

فصل گل آ کے مری جان کو رو جاتی ہے

…٭…٭…٭…

قدرت کے تماشے

پھول کھلے ہیں رنگ برنگے

گملوں میں جو بیج تھے بوئے

ان میں سے کچھ پودے پھوٹے

کچھ کو گملوں ہی میں چھوڑا

کچھ کو کیاری میں جا بویا

ان پہ پڑیں پانی کی پھواریں

جھوم اٹھی پودوں کی قطاریں

روز بڑھیں وہ انگل انگل

پھیلیں پتیاں ابھرے ڈنٹھل

ان میں سے پھر کلیاں پھوٹیں

رنگوں کی پچکاریاں چھوٹیں

وہ جو شام کو اک کلی تھی

صبح ہوئی تو پھول بنی تھی

مٹی میں تو کچھ بھی نہیں تھا

دانہ ہی بس اک بویا تھا

آئے کہاں سے پھول یہ پیارے

اتنے اچھے اتنے پیارے

مٹی میں سے پیڑ ابھرے ہیں

شاخوں میں سے پھول کھلے ہیں

پھول کھلے ہیں رنگ برنگے

ہیں یہ سب قدرت کے تماشے